خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 140
خطبات مسرور جلد هفتم 140 خطبه جمعه فرموده 13 مارچ 2009 موجود بھی ہیں اس لئے ہو سکتا ہے انہی میں سے کسی نے قتل کیا ہو۔مسلمان نے تو قتل نہیں کرنا تھا، کوئی دشمنی نہیں تھی۔جیسا کہ میں نے کہا بڑے واضح ایسے امکانات تھے کہ یہودیوں پر الزام آتا تھا اور الزام لگایا گیا۔بہر حال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو آنحضور ﷺ نے محیصہ سے پوچھا کہ کیا تم قسم کھا سکتے ہو کہ ان کو یہودی نے قتل کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا اور جب میں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تو میں قسم نہیں کھا سکتا۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا پھر یہودیوں سے حلف لیا جائے گا۔کیا انہوں نے قتل کیا ہے؟ یہ اس بات کی صفائی دیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا قتل کرن کو تو کوئی نہیں تسلیم کرے گا۔صفائی دینی تھی کر قتل نہیں کیا۔تو محیصہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ ان یہودیوں کا کیا اعتبار ہے۔یہ سو دفعہ جھوٹی قسمیں کھا لیں گے لیکن چونکہ انصاف کا تقاضا تھا۔آپ نے کہا ٹھیک ہے تم کھالیں گے تو ان کی بچت ہو جائے گی۔انہوں نے قسم کھالی۔آپ نے یہودیوں کو کچھ نہیں کہا اور بیت المال سے پھر عبداللہ کا خون بہادلوا دیا۔( اقضیة رسول الله الله جلد اول صفحہ 143-134 کتاب الحدود باب حکم رسول الله بالقسامة فيمن لم يعرف قاتلہ - دار السلام الریاض 2003 ء ) تو یہ انصاف ہے۔یہ اُسوہ ہے جو آپ نے قائم فرمایا۔زندگی کے کسی بھی پہلو کو آپ نے نہیں چھوڑا۔کسی بھی پہلو کو لے لیں اس میں آپ کا اُسوہ ہمیں نظر آتا ہے۔میں نے انصاف کی جو یہ مثال دی ہے تو آج کل آپ دیکھیں ، بڑے بڑے جبہ پوش جو بڑی بڑی محفلیں مجلسیں ، مجلس میلاد منعقد کرتے ہیں لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان میں سوائے احمدیوں کو گالیاں دینے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ختم نبوت کے نام پر بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں اور اس کی تان پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف دریدہ دہنی پر آ کے ٹوٹتی ہے۔پھر دیکھیں کہ صحابہ کی تربیت کیا تھی؟ با وجود اس کے کہ واقعات اس بات کے گواہ تھے ، یہ شہادت موجود تھی ، حالات کی شہادت موجود تھی لیکن پھر بھی کیونکہ دیکھا نہیں تھا اس لئے جھوٹی قسم نہیں کھائی۔لیکن آج کل یہ بڑے بڑے جو جبہ پوش ہیں، جو اسلام کے علمبردار ہیں یا جو ہونے کا دعوی کرتے ہیں، اسلام کے علمبر دار تو نہیں ، ہونے کا دعوی کرتے ہیں ، اپنے حلفیہ بیان دے کر احمدیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنواتے ہیں۔پولیس سٹیشن میں جاتے ہیں اور اپنی طرف سے ایف آئی آر (F۔IR) درج کراتے ہیں۔احمدیوں پر نہایت بیہودہ اور گھٹیا الزامات لگا کر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور اس پر گواہ بن رہے ہوتے ہیں۔کوئی خوف خدا نہیں ان لوگوں کو۔اگر تو یہ اُسوہ رسول پر چلنے والے ہوتے تو یقیناً خدا کا خوف ہوتا۔محیصہ نے جو جھوٹے حلف کے بارے میں یہودیوں کے متعلق کہا تھا کہ ان کا کیا ہے وہ تو سوجھوٹی قسمیں کھا لیں گے۔آج دیکھیں یہ بات کس پر صادق آتی ہے؟ اللہ تعالیٰ ان معصوم مسلمانوں پر بھی رحم کرے جو ان نام نہاد علماء کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان کی باتوں میں آ کے غلط قسم کی باتوں میں ملوث ہیں اور اسی وجہ سے ان کو سمجھ نہیں آرہی۔کئی گھر اجڑ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو بڑی سختی سے اس