خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 136
136 خطبہ جمعہ فرموده 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دیکھا کہ حضور تسجدے میں پڑے ہوئے ہیں اور کہہ رہے تھے کہ اے میرے پروردگار ! میری روح اور میرا دل تیرے حضور سجدہ ریز ہیں۔( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد كتاب الصلاة باب ما يقول في ركوعه و سجوده جلد 2 صفحہ 259 دار الكتب العلمیة بیروت) تو یہ ہے حقیقی محبوب کے سامنے اظہار اور یہ ہے جواب ان لوگوں کے لئے جو آپ کی ذات پر بیہودہ الزام لگاتے ہیں۔پھر آپ اپنی سونے کی حالت میں بھی خدا تعالیٰ کی یاد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میری دونوں آنکھیں تو بے شک سوتی ہیں لیکن دل بیدار ہوتا ہے۔( صحیح بخاری کتاب التهجد باب قیام النبي باللیل فی رمضان حدیث نمبر (1147) اور اس دل کی بیداری میں کیا ہوتا تھا؟ ذکر خدا ہوتا تھا۔ہر کروٹ آپ کو خدا کی یاد دلاتی تھی۔آپ ﷺ نے مختلف مواقع اور مختلف حالتوں کی جو دعائیں ہمیں اپنے عملی نمونے سے سکھائی ہیں وہ بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کا اوڑھنا بچھونا خدا تعالیٰ کا ذکر اور عبادت تھی۔پس یہ تصور ہے جو آپ نے ہمیں دیا کہ مومن کا ہر فعل اور حرکت و سکون عبادت بن سکتا ہے اگر خدا تعالیٰ کی خاطر ہو اور خدا تعالیٰ کی یاد دلانے والا ہو۔اس نیت سے ہو کہ یہ فعل خدا کا قرب دلانے والا بنے گا۔مثلاً ایک دفعہ آپ ایک صحابی کے گھر گئے انہوں نے وہاں نیا گھر بنایا تھا۔دیکھا کہ ایک کھڑ کی رکھی ہوئی ہے۔ظاہر ہے آپ کو معلوم تو تھا کھڑ کی کیوں رکھی جاتی ہے۔آپ نے تربیت کے لئے اس سے پوچھا کہ بتاؤ یہ کھڑ کی کس لئے رکھی ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ ہوا اور روشنی کے لئے۔آپ نے فرمایا بالکل ٹھیک ہے لیکن اس لئے رکھ دیتے ، یہ بھی نیت ساتھ ملا لیتے کہ اذان کی آواز بھی اس سے آئے گی تا کہ میں نمازوں پہ جاسکوں تو تم نے پہلے جو یہ دونوں مقصد بیان کئے ہیں وہ تو حاصل ہو ہی جاتے اور ساتھ ہی اس کا ثواب بھی مل جاتا۔(مرقاة المفاتيح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 4 صفحہ 167 کتاب الجنائز باب دفن الميت شرح حدیث نمبر 1710 بیروت 2001 ء ) پھر ایک روایت میں آپ نے فرمایا ، حدیث میں آتا ہے کہ خاوند کو چاہئے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بیوی کے منہ میں لقمہ اگر ڈالتا ہے تو اس کا بھی ثواب ہے۔( بخاری کتاب النفقات باب النفقة علی الاصل حدیث 5354) اب اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ صرف لقمہ ڈالنا بلکہ بیوی بچوں کی پرورش ہے، ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ایک مرد کا فرض ہے کہ اپنے گھر کی ذمہ داری اٹھائے۔لیکن اگر یہی فرض وہ اس نیت سے ادا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے اور خدا کی خاطر میں نے اپنی بیوی ، جو اپنا گھر چھوڑ کے میرے گھر آئی ہے، اس کا حق ادا کرنا ہے، اپنے بچوں کا حق ادا کرنا ہے تو وہی فرض ثواب بھی بن جاتا ہے۔یہ بھی عبادت ہے۔اگر یہ خیالات ہوں ہر احمدی کے تو آج کل کے جو عائلی جھگڑے ہیں، تو تکار اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگیاں ہیں ان سے بھی انسان بچ جاتا ہے۔بیوی اپنی ذمہ داریاں سمجھے گی کہ میرے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ میں خاوند کی خدمت کروں،