خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد ہفتم 128 (11) خطبه جمعه فرموده 13 مارچ 2009 فرمودہ مورخہ 13 / مارچ 2009ء بمطابق 13 رامان 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دو تین دن پہلے 12 ربیع الاول تھی جو آنحضرت ﷺ کی پیدائش کا دن ہے اور یہ دن مسلمانوں کا ایک حصہ بڑے جوش وخروش سے مناتا ہے۔پاکستان میں بلکہ برصغیر میں بھی بعض بڑا اہتمام کرتے ہیں۔بعض لوگ جو ہمارے معترضین ہیں، مخالفین ہیں، ان کا ایک یہ اعتراض بھی ہوتا ہے۔مجھے بھی لکھتے ہیں ، احمدیوں سے بھی پوچھتے ہیں کہ احمدی کیوں یہ دن اہتمام سے نہیں مناتے ؟ تو اس بارہ میں آج میں کچھ کہوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارہ میں کیا ارشادت فرمائے؟ ( وہ بیان کروں گا ) جن سے واضح ہوگا کہ اصل میں احمدی ہی ہیں جو اس دن کی قدر کرنا جانتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس سے پہلے میں یہ بھی بتا دوں کہ مولود النبی جو ہے ، یہ کب سے منانا شروع کیا گیا۔اس کی تاریخ کیا ہے؟ مسلمانوں میں بھی بعض فرقے میلادالنبی کے قائل نہیں ہیں۔اسلام کی پہلی تین صدیاں جو بہترین صدیاں کہلاتی ہیں ان صدیوں کے لوگوں میں نبی کر یم ہے سے جو محبت پائی جاتی تھی وہ انتہائی درجہ کی تھی اور وہ سب لوگ سنت کا بہترین علم رکھنے والے تھے اور سب سے زیادہ اس بات کے حریص تھے کہ آنحضرت ﷺ کی شریعت اور سنت کی پیروی کی جائے۔لیکن اس کے باوجود تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ کسی صحابی یا تا بھی جو صحابہ کے بعد آئے ، جنہوں نے صحابہ کو دیکھا ہوا تھا، کے زمانے میں عید میلادالنبی کا ذکر نہیں ملتا۔وہ شخص جس نے اس کا آغاز کیا، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عبداللہ بن محمد بن عبد اللہ قداح تھا۔جس کے پیروکار فاطمی کہلاتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اور اس کا تعلق باطنی مذہب کے بانیوں میں سے تھا۔باطنی مذہب یہ ہے کہ شریعت کے بعض پہلو ظاہر ہوتے ہیں، بعض چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی یہ اپنی تشریح کرتے ہیں۔ان میں دھو کے سے مخالفین کو قتل کرنا، مارنا بھی جائز ہے اور بہت ساری چیزیں ہیں اور بے انتہا بدعات ہیں جو انہوں نے اسلام میں داخل کی ہیں اور ان ہی کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں۔