خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 123

خطبات مسرور جلد هفتم 123 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 مارچ 2009 اس بارہ میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اغراض نفسانی شرک ہوتے ہیں۔وہ قلب پر حجاب لاتے ہیں۔اگر انسان نے بیعت بھی کی ہوئی ہو تو پھر بھی اس کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوتے ہیں۔یعنی نفسانی غرضیں جو ہیں وہ شرک ہیں اور باوجود اس کے کہ بیعت کی ہوئی ہے دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔انسان سوچ سمجھ کے بیعت کرتا ہے۔بعض پرانے احمدی ہیں لیکن پھر بھی بعض ایسی باتیں ہو جاتی ہیں جو ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہیں۔فرمایا ”ہمارا سلسلہ تو یہ ہے کہ انسان نفسانیت کو ترک کر کے خالص توحید پر قدم مارے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 286 حاشیہ۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ایک احمدی کا فرض ہے کہ تمام قسم کی نفسانی اغراض سے اپنے دلوں کو پاک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام میں لگ جائے۔آپ نے فرمایا کہ بیعت کرنے کے باوجود بعض لوگ ٹھو کر کھا جاتے ہیں صرف اس لئے کہ اس غرض کو نہیں سمجھتے جس کے لئے وہ بیعت میں شامل ہوئے ہیں اور وہ غرض یہی ہے کہ مکمل طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپر د کر دینا اور اپنے دل کو ہر قسم کے شرک سے پاک کرنا۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے اس غرض کے لئے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کا منشاء ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 83 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس آج کل جبکہ دنیا کی بے حیائیاں عروج پر ہیں۔نہ حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف توجہ ہے اور نہ ہی حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ ہے۔فتنہ و فساد ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔مسلمان، مسلمان کی گردن خدا کے نام پر کاٹ رہا ہے ، مذہب کے نام پر کاٹ رہا ہے۔ایک طرف سے یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ اسلام کے نام پر جو مملکت ہم نے حاصل کی ہے وہاں خدا تعالیٰ کے دین کی حکومت قائم کی جائے گی اور دوسری طرف مذہب کے نام پر، اپنی ذاتی اغراض کی خاطر، کلمہ گوؤں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔اور آج دنیا میں پاکستان کا تصور ظلم و بربریت کے ایک خوفناک نمونہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر بھی رحم کرے جس کی خاطر جماعت نے بہت قربانیاں دی ہوئی ہیں۔اس بات کو ہر پاکستانی احمدی کو یاد رکھنا چاہئے۔پس آج اگر اس ملک کو کوئی بچا سکتا ہے تو اس فسق و فجور اور فساد اور ظلم کے سمندر میں صرف ایک کشتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تیار کی ہے اور جس پر آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم سوار ہیں۔پس ایک خاص کوشش کے ساتھ اپنے آپ کو بھی ہمیں اس کا اہل بنانے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اپنے ہم قوموں کے لئے خاص دعا کی ضرورت ہے کہ وہ عقل سے کام لیں اور اپنے نام نہاد راہنماؤں کے پیچھے چل کر اپنی زندگیوں اور ملک کی زندگیوں کو داؤ پر نہ لگائیں۔