خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 120
خطبات مسرور جلد هفتم 120 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 تقریبا سارے ہی صابر شاکر ہیں۔نوجوانی میں شیخو پورہ سے قادیان ہجرت کر گئے اور مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا اور زندگی وقف کرنے کی توفیق پائی۔پھر حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے ارشاد پر فوج میں بھرتی ہوئے اور پھر آپ کے حکم سے ہی فوج چھوڑی اور جماعت کی خدمت پر آگئے۔آپ نے ناظر بیت المال آمد و خرچ اور بعد میں نائب ناظم وقف جدید بیرون کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ان کی تین بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔آپ کے ایک بیٹے نصیر احمد عارف صاحب کو نظارت امور عامہ قادیان میں اس وقت خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔پھر اگلا جنازہ سیدہ منیره یوسف صاحبہ کا ہے۔یہ مکرم کمال یوسف صاحب کی اہلیہ ہیں۔ان کو کینسر کی تکلیف تھی۔ایک لمبی علالت کے بعد 25 فروری کو ان کی وفات ہوئی ہے۔آپ حضرت سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کی پوتی تھیں۔کمال یوسف صاحب سیکنڈے نیوین ممالک میں مبلغ کے طور پر بڑا کام کرتے رہے ہیں، یہ ان کے ساتھ رہی ہیں۔مہمان نواز تھیں۔مشن ہاؤس وغیرہ کا خیال رکھتی رہیں اور جماعت سے بڑا تعلق ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء کے ساتھ بڑا تعلق تھا اور ان کے لئے غیرت رکھتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔ان کے خاوند کمال یوسف صاحب اللہ کے فضل سے حیات ہیں۔پھر امتہ الحئی صاحبہ ہیں جو بشیر احمد صاحب سیالکوٹی ربوہ کی اہلیہ اور اسی طرح بشیر احمد صاحب سیالکوٹی ہیں۔ان کی بھی اہلیہ کے چند دنوں کے بعد وفات ہوگئی۔یہ دونوں ہمارے مربی اور اس وقت PS لندن میں کام کرنے والے ہمارے کارکن ظہور احمد صاحب کے والد اور والدہ ہیں۔ان کی والدہ 27 جنوری کو فوت ہوئی تھیں اور والد 25 فروری کو فوت ہوئے۔دونوں بڑے نیک اور دعا گو بزرگ تھے اور اللہ کے فضل سے ان ابتدائی لوگوں میں شامل تھے جور بوہ میں آکے آباد ہوئے اور جنہوں نے یہاں اپنا کاروبار وغیرہ کیا۔ان کے پیچھے ان کی ایک بیٹی اور پانچ بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درجات بلند فرمائے اور ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔نمازوں کے بعد اب ان کی نماز جنازہ بھی ہوگی۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 نمبر 12 مورخہ 20 مارچ تا 26 مارچ 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 9)