خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 119
خطبات مسرور جلد ہفتم 119 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 بھائیوں میں سے صرف آپ کو مذہب سے لگاؤ تھا اور آپ کو اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔دیگر بہن بھائیوں نے اس وجہ سے پھر آپ کی مخالفت بھی کی۔ایک دفعہ آپ کی والدہ بیمار ہوگئیں تو اس بیماری کے دوران بہن بھائیوں نے ان کا (منیر حامد صاحب کا ) نام اس لئے بہن بھائیوں کی فہرست سے نکال دیا کہ یہ مسلمان ہیں اور مسلمان والا نام اگر فہرست میں آ گیا تو ان کو خفت اٹھانی پڑے گی۔بہر حال چھوٹی عمر میں احمدیت قبول کی بلکہ جب یہ احمدیت قبول کرنا چاہتے تھے اس وقت جماعت نے یہ اصول رکھا ہوا تھا کہ والدین کے یا والد یا والدہ کے یا کسی بڑے کے بھی دستخط ہوں کہ اپنی مرضی سے ، دوسرے مذہب ، عقیدہ میں جا رہا ہوں۔تو جب انہوں نے بیعت کا فارم فل (Fill) کیا اور تصدیق کے لئے والدہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے انکار کر دیا اور پھر ان کو سمجھایا کہ تم کس طرف جا رہے ہو۔لیکن ان کی والدہ کا ہمیشہ خیال رہا کہ تم سب بچوں میں سے روحانی طور پر آگے ہو۔یہ کہتے ہیں کہ میں اسلامی اصول کی فلاسفی " پڑھ کر احمدی ہوا تھا۔صداقت واضح ہوئی اور پھر انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں ایک خط لکھا۔کہتے ہیں کہ اس کا جواب جب آیا تو اس خط نے میری کایا ہی پلٹ دی۔میرے ایمان میں بہت ترقی ہوئی۔بڑے بے تکلف تھے۔سادہ طبیعت تھی۔انکسار تھا طبیعت میں۔بڑے نیک انسان تھے۔مجھے بھی کئی دفعہ ملے ہیں۔عموماً خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔جماعتی جلسوں میں بڑے مؤثر انداز میں تقریر کیا کرتے تھے۔رسول کریم ﷺ سے عشق تھا۔آنحضرت می ﷺ کے نام کے ساتھ ہی آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جایا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑے محبت اور پیار کا تعلق تھا۔خلفاء سے اور خلافت سے بڑا گہرا محبت و عقیدت کا تعلق تھا۔یہ دو تین سال پہلے بنگلہ دیش کے جلسہ پہ جاتے ہوئے پہلی دفعہ یہاں لندن میں مجھے ملے ہیں ور جب جلسہ سے واپس آئے ہیں پھر دوبارہ ملاقات کی۔اور کہتے تھے کہ بنگلہ دیش کا جلسہ اور آپ سے ملاقات کے بعد میں نئے سرے سے چارج ہو گیا ہوں۔جب بھی مجھے ملتے بڑے جذباتی ہو جایا کرتے تھے۔گزشتہ سال جب جلسہ پر امریکہ گیا ہوں تو یہ اپنی بیماری کی وجہ سے جلسہ میں شامل نہیں ہوئے۔میں سمجھا تھا کہ معمولی بیماری ہے لیکن بہر حال پتہ نہیں تھا اور میرا خیال ہے کہ گھر والوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ بیماری میں کتنی شدت ہے۔اگر مجھے پتہ لگ جاتا تو کسی نہ کسی طرح وقت نکال کے جاکے ان کے گھر ملاقات کر آتا۔بہر حال اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان میں ایک بیوہ ہیں اور ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق دے کہ منیر حامد صاحب کی نیکیوں کو ہمیشہ جاری رکھیں۔یہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جیسا کہ میں نے بتایا کہ جن کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی طرف خاص را ہنمائی فرماتا ہے کہ 10 بچوں میں سے صرف ایک کو ہی ہدایت کی توفیق ملی۔تیسرا جنازہ ہے مکرم محمود احمد صاحب درویش قادیان کا۔25 فروری کو 84 سال کی عمر میں انہوں نے وفات پاکی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ بھی نہایت نیک متقی نمازوں کے پابند ، صابر شاکر انسان تھے درویشان