خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 114
114 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اوپر جانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن او پر پہنچ نہیں سکتا۔اچانک میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شبیہ کو دیکھا کہ وہ آئے اور اپنا دایاں ہاتھ میری طرف بڑھایا اور فرمایا کہ میرے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لو تم ہلاک نہیں ہو گے۔کہتے ہیں کہ میں کیسے پکڑوں؟ مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے۔پھر حضرت مسیح موعود نے خود ہی اپنا ہاتھ پکڑ کر مجھے اوپر کھینچ لیا۔کہتے ہیں کہ پھر میں ہموار رستے پر چلنا شروع کر دیتا ہوں۔اسی طرح بورکینا فاسو کے سانو اسحاق صاحب ہیں جو بیان کرتے ہیں کہ ہمارے محلے کی مسجد میں غیر از جماعت امام نے احمدیت کے خلاف خطبہ دیا اور ریڈیو احمد یہ سننے سے بڑی سختی سے منع کیا۔( مولویوں کے پاس اور کوئی دلیل کا ہتھیار نہیں ہے۔) صرف یہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کی باتیں نہ سنو جس طرح کہ میں نے پہلے بتایا مکہ کے لوگوں کا حال تھا۔کہتے ہیں کہ میں نے امام سے کہا کہ اگر ہم یہ ریڈیو سنیں گے نہیں تو ہمیں حقیقت کا کیا علم ہو گا۔امام صاحب کہنے لگا کہ نہیں بالکل نہیں سننا۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ میں نے کہا اچھا ایک طریقہ اختیار کرتے ہیں۔اس پر تمہیں اتفاق ہونا چاہئے کہ وہاں بورکینا فاسو میں بو بو جلا سوشہر جو ہے اس میں جتنے بھی مسلمانوں کے فرقے ہیں ان کے نام پر چیوں پہ لکھ کے کسی بچے سے قرعہ اٹھواتے ہیں اور جس کا بھی قرعہ بچے نے اٹھایا اور پرچی پر نکل آیا تو ہم سمجھیں گے کہ وہ جماعت کچی ہے۔کہتے ہیں، خیر ہم نے جتنے بھی فرقے تھے ساروں کے نام لکھے۔بچے کو بلایا اس سے پر چی اٹھوائی تو اس پر لکھا ہوا تھا جماعت احمد یہ۔پھر امام صاحب کو تسلی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا: نہیں ایک دفعہ اور کرو۔دوسری دفعہ اٹھایا پھر نام نکلا جماعت احمد یہ۔پھر تسلی نہیں ہوئی۔پھر تیسری دفعہ اٹھایا۔آخر امام صاحب بڑے پریشان ہوئے مگر ان کے لئے ہدایت کا سامان ہو گیا۔اسی طرح ناروے کا ایک واقعہ ہے۔کہتے ہیں ایک صاحب نے امیر صاحب کو کہا کہ 7 مئی 2004 ء کا میرا خطبہ جوٹی وی پر آرہا تھا تو ایک غیر از جماعت دوست نے فون کیا اور ملنے کی خواہش کی اور ملاقات پر انہوں نے بتایا کہ خطبہ جمعہ سن کر ان میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔اس لئے وہ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔تو اس طرح بھی اللہ تعالیٰ ہدایت کے سامان فرما دیتا ہے۔اسی طرح بوسنیا سے ایک زیر تبلیغ نوجوان نے خواب کے ذریعے بیعت کی ہے اس نوجوان نے خود اپنی خواب بیان کی۔کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ میں ایک بڑے شہر میں چل رہا ہوں جہاں افرا تفری مچی ہوئی ہے۔وہاں میں نے بہت سے یہودی عیسائی اور مسلمان دیکھے جو حیران اور گند سے بھری ہوئی گلیوں میں ادھر ادھر پھر رہے ہیں جیسے گم گئے ہیں۔اچانک میری نظر اپنے دائیں طرف پڑتی ہے تو میں ایک خوبصورت درخت دیکھتا ہوں جس کے نیچےلوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ بیٹھا ہوتا ہے۔انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں۔اس افراتفری کے دوران وہ مکمل سکون سے اور ایک حلقے کی صورت میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے چہروں پر مہ ر مسکراہٹ