خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 103

خطبات مسرور جلد ہفتم 103 خطبه جمعه فرموده 20 فروری 2009 عبدالاحد خاں صاحب نے اس کی حرکتوں سے اسے پہچان لیا کہ ہتھیار اس کے پاس ہے اور پکڑ لیا۔پھر اسی طرح کے اور بعض واقعات ہیں۔(ماخوذ از الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 629-630 ) پھر اسیروں کی رستگاری کے لحاظ سے فرماتے ہیں۔کشمیر کا واقعہ ہے جو اس پیشگوئی کی صداقت کا زبر دست ثبوت ہے اور ہر شخص ان واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے کشمیریوں کی رستگاری کے سامان پیدا کئے اور ان کے دشمنوں کو شکست دی۔فرمایا کہ کشمیر کی قوم اس طرح غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی کہ گورنمنٹ کا یہ فیصلہ تھا کہ زمین ان کی نہیں بلکہ راجہ صاحب کی ہے گویا سارا ملک ایک مزارع کی حیثیت رکھتا تھا اور راجہ صاحب کا اختیار تھا کہ جب جی چاہا ان کو نکال دیا۔انہیں نہ درخت کاٹنے کی اجازت تھی اور نہ زمین سے کسی اور رنگ میں فائدہ اٹھانے کی۔(ماخوذ از الموعود۔انوارالعلوم جلد 17 صفحہ 615) ایک بات اس میں یہ تھی کہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں بڑی شان سے پوری ہوئی اور دنیا میں بہت سارے مشن کھلے۔بلکہ بعض مشن بعد میں بند بھی ہوئے۔آپ کے زمانے میں سیلون ، ماریشس، سماٹرا، سٹیر میں سیٹلمنٹس (Straits Settlements) ، چین، ، جاپان، بخارا، روس، ایران ، عراق، شام، فلسطین، مصر، سوڈان، ابی سینیا، مراکو، چیکوسلواکیہ، پولینڈ، رومانیہ، یونائیٹڈ سٹیٹس ، ارجنٹائن ، یوگوسلاویہ۔تقریباً کوئی 34-35 ممالک میں مشن کھلےاور تبلیغ اسلام پھیلی اور فرمایا کہ ہزاروں مسیحی میرے ذریعہ سے اسلام میں داخل ہوئے۔اس طرح میرے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی جو تبلیغ ہے وہ ساری دنیا پر حاوی ہو جاتی ہے۔(ماخوذ از الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 611) پس اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی چند باتیں میں نے بیان کی ہیں۔اس پیشگوئی کی عظمت بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: آ نکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے۔جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف رحیم محمد مصطفی صلی اللہ کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ اعلی واولی واکمل وافضل واتم ہے۔کیونکہ مردے کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے۔اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانه و برکت حضرت خاتم الانبیا کے خدا وند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیائے موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ بی نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صدہا