خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 97

خطبات مسرور جلد ہفتم 97 خطبه جمعه فرموده 20 فروری 2009 کام نہ کر رہی تھی تو پھر آخر آپ یہ کس طرح جان گئے کہ میرا ایک بیٹا ایسا ہو گا۔جس وقت میرزا صاحب نے مندرجہ بالا اعلان کیا ہے اس وقت آپ کے تین بیٹے تھے۔آپ تینوں کے لئے دعائیں بھی کرتے تھے لیکن پیشگوئی صرف ایک کے متعلق ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک فی الواقعہ ایسا ثابت ہوا ہے کہ اس نے ایک عالم میں تغیر پیدا کر دیا ہے“۔(رسالہ ” خلیفہ قادیان طبع اول صفحہ 7-8 - از ارجن سنگھ ایڈیٹر رنگین امرتسر۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 287-288 مطبوعہ ربوہ ) پھر پسر موعود کے بارے میں اس پیشگوئی میں ایک یہ بات بھی تھی کہ " تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔اس میں بھی غیروں کی شہادت دیکھیں کیا ہے۔زمیندار اخبار میں مولوی ظفر علی خاں صاحب نے لکھا ہے۔یہ مشہور مصنف مسلم لیڈر تھے اور بڑے زبر دست مقرر تھے۔کہتے ہیں۔کان کھول کر سن لو۔تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے۔تمہارے پاس کیا دھرا ہے۔تم نے بھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے اشارہ پر اس کے پاؤں پر نچھاور کرنے کو تیار ہے۔مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔مختلف علوم کے ماہر ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے۔“ ( ایک خوفناک سازش“۔صفحہ 196۔مظہر علی اظہر۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 288 مطبوعہ ربوہ ) پھر اولوالعزم ہونے اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کئے جانے کے بارہ میں غیروں کی شہادت ہے۔خواجہ حسن نظامی دہلوی ایک مشہور صحافی ہیں ان کی شہادت ہے۔انہوں نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ اکثر بیمار رہتے ہیں۔حضرت مصلح موعوددؓ بچپن سے ہی بیمار تھے خود انہوں نے لکھا ہے کہ میں بچپن سے ہی بہت کمزور تھا آنکھوں کی بیماری تھی۔پڑھ نہیں سکتا تھا۔آنکھیں اتنا اہل جاتی تھیں کہ نظر ہی کچھ نہیں آتا تھا۔استاد میری شکایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کرتے تھے بلکہ ایک دن حضرت میر ناصر نواب صاحب نے شکایت کی کہ اس کو حساب نہیں آتا ، یا اس کو پڑھنا نہیں آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نفس کے ٹال دیا کرتے تھے کہ ہم نے اس سے کوئی کاروبار نہیں کروانا اور نوکری نہیں کروانی۔اور حضرت خلیفہ اول سے پوچھا کرتے تھے کہ کیوں آپ کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے تھے نہیں بالکل ٹھیک ہے۔بہر حال جو ظاہری دنیاوی تعلیم تھی وہ کسی قسم کی آپ نے نہیں کی بلکہ دینی تعلیم بھی حضرت خلیفہ اول کی مطب میں بیٹھ کر صرف لیکچر میں سنا کرتے تھے۔تو یہ ہے علوم ظاہر و باطنی سے پر کیا جائے گا۔اس بارہ میں خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں۔کہ اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں ان کی عملی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔انہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغلئی جوانمردی کو ثابت کر دیا اور یہ بھی کہ مغل ذات کا رفرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے۔سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل وفہم میں بھی قوی ہیں اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں یعنی دماغی اور قلمی جنگ کے ماہر ہیں“۔(اخبار عادل‘ دہلی۔24 اپریل 1933 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 288 مطبوعه ربوہ )