خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 96

96 خطبه جمعه فرموده 20 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہ حقیقت ہے کہ آپ کے زمانے میں احمدیت نے جس قدر ترقی کی وہ حیرت انگیز ہے۔خود مرزا صاحب کے وقت میں احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔خلیفہ نورالدین صاحب کے وقت میں بھی خاص ترقی نہ ہوئی تھی لیکن موجودہ خلیفہ کے وقت میں مرزائیت قریباً دنیا کے ہر خطے تک پہنچ گئی اور حالات یہ بتلاتے ہیں کہ آئندہ مردم شماری میں مرزائیوں کی تعداد 1931ء کی نسبت دگنی سے بھی زیادہ ہوگی۔بحالیکہ اس عہد میں مخالفین کی جانب سے مرزائیت کے استیصال کے لئے جس قدر منظم کوششیں ہوئیں ہیں پہلے کبھی نہیں ہوتی تھیں“۔یہ ایک غیر از جماعت کے تاثرات ہیں کچھ نہ کچھ حق تو لکھنا جانتے تھے۔آج کل کے علماء کی طرح بالکل ہی اندھے نہیں تھے۔)۔الغرض آپ کی ذریت میں سے ایک شخص پیشگوئی کے مطابق جماعت کے لئے قائم کیا گیا اور اس کے ذریعہ جماعت کو حیرت انگیز ترقی ہوئی۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی من وعن پوری ہوئی۔“ اظہار الحق صفحہ 16۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 286-287 مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک غیر مسلم صحافی ارجن سنگھ جو رنگین اخبار امرتسر کے ایڈیٹر تھے، لکھتے ہیں کہ " مرزا صاحب نے 1901ء میں جبکہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجودہ خلیفہ ابھی بچہ ہی تھے یہ پیشگوئی کی تھی۔( انہوں نے 1901ء میں لیا ہے۔اس لئے انہوں نے درمین کے شعر دیئے ہیں )۔بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا کہتے ہیں یہ پیشگوئی بے شک حیرت پیدا کرنے والی ہے۔1901ء میں نہ میرزا بشیر الدین محمود احمد کوئی بڑے عالم و فاضل تھے اور نہ آپ کی سیاسی قابلیت کے جو ہر کھلے تھے۔اس وقت یہ کہنا کہ تیرا ایک بیٹا ایسا اور ایسا ہو گا، ضرور روحانی قوت کی دلیل ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ مرزا صاحب نے ایک دعوی کر کے گڑی کی بنیا درکھ دی تھی اس لئے آپ کو یہ گمان ہو سکتا تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کا سہرا میرے لڑکے کے سر پر رہے گا لیکن یہ خیال باطل ہے اس لئے کہ میرزا صاحب نے خلافت کی یہ شرط نہیں رکھی کہ وہ ضرور میرزا صاحب کے خاندان سے اور آپ کی اولاد سے ہی ہو۔چنانچہ خلیفہ اول ایک ایسے صاحب ہوئے جن کا مرزا صاحب کے خاندان سے کوئی واسطہ نہ تھا۔پھر بہت ممکن تھا کہ مولوی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول کے بعد بھی کوئی اور صاحب خلیفہ ہو جاتے چنانچہ اس موقع پر بھی مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور خلافت کے لئے امیدوار تھے لیکن اکثریت نے میرزا بشیر الدین صاحب کا ساتھ دیا اور اس طرح آپ خلیفہ مقرر ہو گئے۔اب سوال یہ ہے ( خود لکھتے ہیں یہ ارجن سنگھ صاحب) کہ اگر بڑے میرزا صاحب کے اندر کوئی روحانی قوت