خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 77
77 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم الْمُسْتَقِيمَ کہ ہمیں صحیح راستے پر چلا۔بے شک انسان اپنی ذاتی ترقی کے لئے بھی دعامانگتا ہے لیکن جب ایک جماعت میں شامل ہو گئے تو ہماری سوچوں اور دعاؤں کے دھارے جماعت کو سامنے رکھ کر بھی ہونے چاہئیں۔اس لئے جب آپ یہ دعا کر رہے ہوں گے تو ذاتی کمزوریاں دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔جب یہ تصور کر کے دعا مانگی جائے گی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہمیں سیدھے راستے پر اور کامیابی کے راستے پر اور جلد منزلیں حاصل کرتے چلے جانے والے راستے پر چلا تو اپنا جائزہ بھی انسان لے گا کہ میں بحیثیت فرد جماعت اس میں کیا کردار ادا کر رہا ہوں۔میں نے اپنی روحانیت کو کس حد تک بڑھانے کی کوشش کی ہے۔حقوق العباد کی ادئیگی کی کس حد تک کوشش کی ہے جب ہم اللہ تعالیٰ سے ہمیں ہدایت کے راستے دیکھا کی دعا مانگتے ہیں تو پھر ذاتی رنجشیں کیسی ؟ ہم نے تو مل کر ان راستوں پر چلتا ہے جہاں ذاتی فائدے بھی حاصل ہو رہے ہوں اور جماعت کی ترقی کے لئے بھی اور اس کی مضبوطی کے لئے بھی کوششیں ہو رہی ہوں۔ہمیں اپنی روحانی حالتوں کی بہتری کے سامان کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہورہی ہو۔اپنی علمی حالتوں کی بہتری کی طرف بھی توجہ پیدا ہورہی ہو اور اپنی عملی حالتوں کی بہتری کی طرف بھی توجہ پیدا ہو رہی ہو۔اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق ترقی اور ہدایت کے راستے کھولتا چلا جاتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى (سورۃ محمد : 118) یعنی اور وہ لوگ جو ہدایت پاتے ہیں اللہ ان کو ہدایت میں زیادہ کرتا جاتا ہے۔پس نیکیوں پر قائم رہنے، استقامت دکھانے، اللہ تعالیٰ سے مزید ہدایت کی دعا مانگتے رہنے سے ذاتی روحانی ترقی بھی ہے اور جماعتی روحانی ترقی بھی ہے اور دونوں حالتوں میں ہر قسم کی مادی ترقی بھی ہے۔پس یہ دعا کوئی معمولی دعا نہیں ہے جو ہم نماز میں تکرار سے پڑھتے ہیں۔ہر نماز کی ہر رکعت میں ، بلکہ دل سے نکلی ہوئی یہ دعا ئیں اگر ہوں تو پھر یہی کامیابیوں کے نئے سے نئے راستے کھولتی چلی جاتی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے مختلف مضامین کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔آپ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ یہ دعا لوگوں کے تمام مراتب پر حاوی ہے فرماتے ہیں: و پس خلاصہ یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا انسان کو ہر بچی سے نجات دیتی ہے اور اس پر دین قویم کو واضح کرتی ہے۔اسلام کا یہ دین جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اس کو واضح کرتی ہے کہ اس کے کیا کیا راستے ہیں اور اس کو ویران گھر سے نکال کر پھلوں اور خوشبوؤں بھرے باغات میں لے جاتی ہے اور جو شخص بھی اس دعا میں زیادہ آہ وزاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو خیر و برکت میں بڑھاتا ہے۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 136)