خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 71

خطبات مسرور جلد ہفتم 71 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 فروری 2009 ہوا، اس کے یہ معنی نہیں ہیں بلکہ جسمانی رفع ہے۔خیر یہ تو عام بات ہے۔سب غیر احمدی یہی کہتے ہیں۔لیکن ایک بات جو میرے لئے تو بہر حال نئی تھی۔کہنے لگے کہ آپ لوگ حضرت عیسی کو اس لئے مارنا چاہتے ہیں کہ احمدیت کی زندگی اس میں ہے۔انہوں نے اپنی نیت کا کافی اظہار کیا اور جماعت کے لٹریچر کا کچھ حد تک مطالعہ بھی تھا اور ان کا دعویٰ بھی ہے کہ میں نے بہت کیا ہوا ہے یا کچھ حد تک کیا ہوا ہے۔لیکن اگر انہوں نے غور سے دیکھا ہو تو احمدیت کی زندگی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تویہ فرمایا ہے کہ عیسی کی موت جو ہے وہ اسلام کی زندگی ہے۔دد عیسی کو مرنے دو کہ اسی سے اسلام زندہ ہوتا ہے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 322) کیونکہ عیسائیوں کے پاس یہی حربہ ہے جس سے وہ کمزور مسلمانوں کو حضرت عیسی کے افضل ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔گو کہ اب بہت سے مسلمان علماء بھی اس مضمون کو چھیڑنے سے بچتے ہیں۔لیکن ابھی بھی ایسے علماء ہیں اور مغرب میں رہنے والے پڑھے لکھے علماء بھی ہیں ، جیسا کہ میں نے بتایا ، جو حضرت عیسی کے زندہ آسمان پر موجود ہونے اور کسی وقت میں اترنے کے بھی قائل ہیں۔پس ہم تو دلیل سے حضرت عیسی کی وفات ثابت کر کے اسلام کو زندہ مذہب کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور مسیح محمدی کو مسیح موسوی کے مثیل کے طور پر پیش کرتے ہیں تا کہ اسلام کا زندہ ہونا ثابت ہو۔اور یہ کہتے ہیں کہ احمدیت کی زندگی کا دارو مدار عیسی کی وفات پر ہے۔بہر حال یہ تو ثابت ہو گیا کہ جس طرح ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حضرت عیسی کو اس لئے مارتے ہیں یا یہ ثابت کرتے ہیں کہ وفات پاچکے ہیں کہ اس سے اسلام زندہ ہوتا ہے۔تو انہوں نے بھی ثابت کر دیا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی کی وفات سے احمدیت زندہ ہورہی ہے اور احمدیت کا زندہ ہونا اس لحاظ سے پھر اسلام کا زندہ ہونا ہی ہے۔کیونکہ ہمارا تو دعوی ہی یہی ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اسلام کے لئے کر رہے ہیں اور احمدیت کیا ہے حقیقی اسلام ہے۔جو عیسائی احمدیت کی تبلیغ کی وجہ سے اسلام قبول کرتے ہیں وہ اسی وجہ سے اسلام قبول کرتے ہیں کہ جب حضرت عیسی کی وفات ثابت ہو جاتی ہے تو ان کو اس کے مانے بغیر چارا نہیں رہتا اور پھر اسلام کی زندگی ان پر کھل جاتی ہے اور اپنے مذہب کی کمزوریاں ان پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر یہ صاحب بھی خالی الذہن ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں ، اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا ئیں اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم پر چلنے کے لئے ایک درد پیدا کریں تو بعید نہیں کہ اگر ان کا دل صاف ہو تو اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی فرمائے کیونکہ اگر اسلام سے محبت رکھنے والوں کو اسلام کے غلبہ سے دلچسپی ہے تو یا درکھیں کہ مسیح و مہدی کے ساتھ ہی اب یہ ترقیات وابستہ ہیں جو آ چکا ہے۔اب اس کے علاوہ اور کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اس بات کا اعلان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم گزشتہ 120 سال سے اس کو سچا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : "تخمینا عرصہ میں سال کا گزرا ہے کہ مجھ کو اس قرآنی آیت کا الہام ہوا تھا۔اور وہ یہ ہے هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّه (الصف: 10) وہ خدا جس نے