خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 572
572 خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ياهل الكتب قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمُ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَبِ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ۔قَدْ جَاءَ كُمُ مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَبٌ مُّبِينٌ۔يَهْدِى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلام وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (المائدہ: 16-17) اے اہل کتاب یقیناً تمہارے پاس ہمارادہ رسول آچکا ہے جو تمہارے سامنے بہت سی باتیں جو تم اپنی کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے خوب کھول کر بیان کر رہا ہے اور بہت سی ایسی ہیں جن سے وہ صرف نظر کر رہا ہے۔یقینا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک ٹور آچکا ہے اور ایک روشن کتاب بھی۔اور دوسری آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ انہیں جو اس کی رضا کی پیروی کریں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے اور اپنے اذن سے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکال لاتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔پس وہ تمام باتیں جو پہلی کتابوں میں ان کے ماننے والوں نے یا تو بدل دی تھیں یا چھپا لیا کرتے تھے۔ظاہر نہیں کیا کرتے تھے ان کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر آنحضرت ﷺ اب دوبارہ دنیا کے سامنے وہ باتیں پیش فرما ر ہے ہیں۔اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ جواب آپ میک کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش ہو رہی ہیں ان میں بہت سے نئے احکامات ہیں۔بہت سی نئی باتیں ہیں۔خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے، روحانیت میں ترقی کے نئے اور وسیع راستے کھل رہے ہیں۔اور ایسے احکامات ہیں جو انسان کی فطرت کے مطابق ہیں اور جن میں کوئی افراط اور تفریط نہیں ہے۔ایک ایسا رسول آیا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی ہے۔ایک معتدل تعلیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے“۔( یعنی جس نبی پر وہ وحی اتر رہی ہو اس کی فطرت کے مطابق وحی نازل ہوتی ہے۔جیسے حضرت موسی" کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔تو ریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی۔سوانجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔مگر آ نحضرت ﷺ کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا۔( ایسا بہت زیادہ ایک ایسی جگہ پر واقع تھا جہاں نہ بختی تھی نہ نرمی تھی۔فرمایا کہ ”نہ ہر جگہ علم پسند تھا اور نہ ہر مقام پر غضب مرغوب خاطر تھا“۔( نہ ہر جگہ نرمی ظاہر کرتے تھے۔نہ ہر جگہ اور موقع پر غصہ ہی ظاہر کیا جاتا تھا۔بلکہ ایک ایسا رستہ تھا جو سیدھا راستہ تھا)۔فرمایا کہ ” بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔سو قرآن شریف بھی ایسی طرز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت ور رحمت ، و ہیبت و شفقت ونرمی و درشتی ہے“۔( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول - صفحہ 193 حاشیہ (11)