خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 536
خطبات مسرور جلد ہفتم 536 (47) خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 فرمودہ مورخہ 20 رنومبر 2009 ء بمطابق 20 ربوت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ اَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا وَّ إِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوتِ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔(العنكبوت: 42) ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور دوست بنائے مکڑی کی طرح ہے اس نے بھی ایک گھر بنایا اور تمام گھروں میں یقینا مکڑی ہی کا گھر سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے۔کاش وہ یہ جانتے۔یہ آیت سورۃ عنکبوت کی آیت ہے۔جیسا کہ اس کے مضمون سے ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان بدقسمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو خدا تعالیٰ کا در چھوڑ کر دوسروں کے در تلاش کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی دوستی کو چھوڑ کر غیر اللہ کی دوستی کو اختیار کرتے ہیں۔ظاہری اور عارضی فائدہ کو دیکھ کر ٹھوس اور مستقل فوائد کو نظر انداز کرتے ہیں۔دنیا کی جاہ و حشمت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کو بھول جاتے ہیں۔دنیا داروں کی خوشنودی کی خاطر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو بھلا بیٹھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو ولی بنانے کی بجائے غیر اللہ کو ولی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے مضبوط حصار میں آنے کی بجائے مکڑی کے کمزور جالے کو اپنا حصار سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے پہلی آیات میں عادہ شمود کا ذکر کیا ہے۔پھر قارون اور فرعون اور ہامان کا ذکر فرمایا ہے۔بلکہ کچھ آیات پیچھے چلے جائیں تو لوط کی قوم کا بھی ذکر ہے اور پھر ان سب کے انجام کا ذکر ہے۔اس لئے کہ وہ خدا کو بھول گئے اور دنیاداری ان کا مقصود ہوگئی۔کسی کی قوم کسی کی دولت کسی کے اونچے محل کسی کے پہاڑوں میں بنائے ہوئے محفوظ گھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے آگے کوئی کام نہ آسکے۔قرآن کریم میں اس حوالے سے کئی جگہ ذکر ملتا ہے کہ کس طرح قو میں ہلاک ہوتی رہیں۔کیونکہ بجائے خدا تعالیٰ کو پناہ گاہ پکڑنے کے انہوں نے عارضی پناہ گاہوں پر بھروسہ کرنے کی کوشش کی۔ان قوموں کا ذکر کر کے خدا تعالیٰ نے ہمیں بھی ہوشیار کیا ہے۔واضح کر دیا کہ صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کو ولی بنانے کی بھی ضرورت ہے۔اس کی پناہ میں آنے کے لئے اس کی دوستی کا حق ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔جس طرح ماضی میں ہامان کا معزز ہونا یا اس کی حکومت کا ہونا کسی کو نہ بچا سکا،