خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 397
397 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس سے پہلی آیات میں سے ایک آیت میں اس کا ذکر بھی ہے کہ اپنی قربت دلانے کا یہ ذریعہ یعنی روزے خدا تعالیٰ نے پہلے انبیاء کی قوموں کے لئے بھی فرض کئے تھے اور آج مسلمانوں پر بھی فرض ہیں۔لیکن جیسا کہ اسلام دین کامل ہے اسلام میں روزوں کا تصور بھی اعلیٰ ترین صورت میں اللہ تعالیٰ نے دیا اور اس کی تعلیم دی۔سحری اور افطاری کے اوقات کا تعین اور بعض دوسری سہولیات کا ذکر کیا جس میں بیماری اور سفر کی حالت میں چھوٹ بھی دی۔اور پھر یہ کہ بعد میں تعداد کو پوری کرنا ہے۔لیکن پھر بھی اگر طاقت ہے تو فدیہ کا بھی حکم ہے۔اور مستقل بیماری اور عذر کی وجہ سے فدیہ وغیرہ دینے کا حکم ہے۔لیکن عبادتوں اور قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے ایک مومن پر فرض کی ہے، اس کو توجہ دلائی ہے۔کیونکہ یہ برکتوں والا مہینہ ہے اس لئے ایک مومن کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہلکی پھلکی بیماری اور کمزوری کو اس چھوٹ کا بہانہ بنا کر روزوں کو نہیں چھوڑ نا چاہئے۔ایک مومن کی کامل اطاعت کا تو تبھی پتہ چلتا ہے جب خدا تعالیٰ کی خاطر کھانا پینا اور بعض جائز کام بھی ایک وقت تک کے لئے چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کرے کیونکہ ان دنوں میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گناہ معاف کرنے اور اسے اپنے قرب سے نواز نے کے لئے خاص سامان پیدا فرماتا ہے۔ایک تو لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا کہہ کر ہر وقت ، ہر موسم ، ہر زمانے اور ہر ملک کے انسانوں کو کہہ دیا کہ ہم اپنی طرف آنے کے راستے دکھاتے ہیں۔ہر اس شخص کو جو اپنی بھر پور کوشش ہماری طرف آنے کے لئے کرے۔گویا یہ اعلان عام ہے اور ہر وقت جو بھی نیک نیت ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جائے گا اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ پانے والا بنے گا۔لیکن رمضان کا مہینہ ایسا مہینہ ہے جس میں ان قربانیوں کی وجہ سے جو بندہ خدا تعالیٰ کے لئے کرتا ہے، خدا تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے، ایک فیض خاص کا چشمہ بھی جاری فرما دیا۔اپنے بندوں کی روحانی ترقی کے لئے ایک خاص اہتمام فرمایا ہے۔ایک ایسا ماحول میسر فرمایا ہے جو نیکیوں کے راستوں کو جلد از جلد طے کرنے میں مدد دینے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کے لئے آسانیاں پیدا فرما دی ہیں۔بندے کی دعاؤں کی قبولیت کے لئے تمام دُوریوں کو قربتوں میں بدل دیا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَعُلِقَتُ اَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ - ( صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شهر رمضان حدیث نمبر (2384 ترجمہ اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔تو یہ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ کسی طرح اس حالت کا نقشہ کھینچ دیا اور بیان فرما دیا کہ