خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 388

388 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم سے جو ہمارے ایم ٹی اے مرکزیہ کے کارکنان کی ٹیم گئی ہوئی تھی ان سے بھی پورا تعاون کیا۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی بہترین جزا دے۔ہر سال میں جرمنی کے کچھ لڑکوں کے ایک کام کا ذکر کرتا ہوں جو کسی ایک علیحدہ شعبے کے تحت تو نہیں ہوتے لنگر کے نظام کے تحت ہی وہ کام ہے لیکن اس میں تین بھائی بڑی محنت سے کام کرتے ہیں۔یہ ہے دیگ دھونے کی مشین جوان بھائیوں نے خود ایجاد کی ہے۔اس سال بھی انہوں نے اس میں مزید بہتری پیدا کی ہے۔اسے امپروو (Improve) کیا ہے اور اسے مکمل آٹو میٹک (Automatic) بنا دیا ہے۔اس کے اندر سارا کمپیوٹرائزڈ نظام ہے جو دیگ کو مشین کے اندر لے جاتا ہے، دھوتا ہے اور جب صاف ہو جائے تو اٹھا کے باہر پھینک دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کو بھی جزا دے اور ان کے ذہنوں کو مزید جلا بخشے۔اس دفعہ انہوں نے مقامی طور پر دو انجینئر یا ٹیکنیشن یا مکینکس بھی ساتھ لگائے تھے۔ایک شاید بوز نیا کا اور ایک جرمنی کا تھا۔بہر حال ان سب نے بڑا اچھا کام کیا۔دوسرے یہ کہ میرے دورے کے بعد جو احباب ہیں وہ عموماً سفر کے حالات اور جلسہ کے بعض واقعات جوایم ٹی اے پر دکھائے اور سنائے نہیں جاتے انہیں بھی سنے کی خواہش رکھتے ہیں، مجھے خطوط میں ذکر کرتے رہتے ہیں۔تو یہ سفر تو جیسا کہ ہم جانتے ہیں خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں بلکہ جلسے میں شامل ہونے والے ہر شخص کا سفر ہی خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہوتا ہے جیسا کہ میں نے کہا وہ برکتوں کے حصول کے لئے تین دن رات ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے سفر کرنے والوں کو بشارت بھی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بشارت اس کی خوشنودی اور اس کے انعامات کا ملنا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ صرف منہ سے دعوی نہ ہو کہ ہم خدا تعالیٰ کی خاطر سفر کرنے والے ہیں بلکہ بعض خصوصیات کا بھی اظہار ہونا چاہئے۔سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلتَّائِبُونَ الْعَبْدُونَ الْحَمِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّكِعُونَ السَّجِدُونَ الأمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَفِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ، وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (التوبة: 112 ) یعنی جو لوگ تو بہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں ، خدا کی حمد کرنے والے ہیں ، خدا کی راہ میں سفر کرنے والے ہیں، رکوع کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، نیک باتوں کا حکم دینے والے ہیں اور بری باتوں سے روکنے والے ہیں اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں ایسے مومنوں کو تو بشارت دے۔پس ان تمام باتوں کا پیدا ہونا جن کا ذکر کیا گیا ، عبادت کرنے والے ہوں، خدا کی حمد کرنے والے ہوں ، خدا کی راہ میں سفر کرنے والے، اس کے حضور جھکنے والے سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو بشارت سے نوازا ہے۔بہر حال میں ذکر کر رہا تھا کہ لوگ سفر کے حالات سننے کے شائق ہوتے ہیں۔اس لئے مختصر اس کا ذکر کرتا