خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 247

247 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے کہ ان نیکیوں کو بجالائے ، جن کا اُسوہ آنحضرت ﷺ نے قائم فرمایا ہے۔صرف یہ کہنا کہ کیونکہ وہ معیار میں حاصل نہیں کر سکتا، اس لئے کوشش کی بھی ضرورت نہیں ہے یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض سے آزاد نہیں کر دیتی یہ بات ایک مومن کو اور امت میں میں نے جیسا کہ کہا ہے کہ کروڑوں لوگوں نے یہ نمونے قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور کر کے دکھایا ہے۔ایک عام مومن بھی اس اسوہ حسنہ کو رسول کریم ﷺ نے جو قائم فرمایا اپنی استعدادوں کے مطابق قائم کر سکتا ہے بجالا سکتا ہے۔اس پر عمل کر سکتا ہے۔پھر چوتھی بات اس حوالہ سے یہ ہے کہ گو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تمام انسانیت کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور وہ جو تعلیم لائے اسے قبول کرنے کا ہر ایک کو حکم ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس رسول ملے پر ایمان لانا ہی نجات کا بھی باعث ہے۔لیکن اگر کسی پر اتمام حجت نہیں ہوا اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت۔بڑھ کر کسی بات کا مکلف نہیں بناتا اس لئے وہ شخص قابل مواخذہ نہیں ہوگا جس پرا تمام حجت نہیں ہوا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک۔۔۔اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہو گا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا وہ مکذب اور منکر ہے۔تو گوشریعت نے ( جس کی بناء ظاہر پر ہے ) اس کا نام بھی کا فر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مواخذہ نہیں ہو گا۔ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں۔یہاں یہ بھی یادر ہے کہ ان الفاظ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک با وجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا۔ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے اور چونکہ ہر ایک پہلو کے دلائل پیش کرنے اور نشانوں کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کے ہر ایک رسول کا یہی ارادہ رہا ہے کہ وہ اپنی حجت لوگوں پر پوری کرے اور اس بارے میں خدا بھی اس کا مؤید رہا ہے۔اس لئے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر حجت پوری نہیں ہوئی وہ اپنے انکار کا ذمہ وار آپ ہے اور اس بات کا بار ثبوت اسی کی گردن پر ہے اور وہی اس بات کا جوابدہ ہوگا کہ باوجود دلائل عن عقلیہ اور نقلیہ ور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں اور ہر ایک قسم کی رہنمائی کے کیوں اس پر حجت پوری نہیں ہوئی۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 186) پس گو بغیر اتمام حجت کے خدا تعالیٰ نے کسی کو مکلف نہیں بنایا لیکن مخالفین اسلام اور احمدیت کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان کے نفس کے دھو کے انہیں یہ بات کہنے پر مجبور تو نہیں کر رہے؟ کہ ہمیں اتمام حجت نہیں ہوئی۔دنیا میں ہر طرف فساد اور آفات وہ نشانات تو نہیں ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کے طور پر ہیں جبکہ زمانہ کے امام کا دعویٰ بھی موجود ہے۔