خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 233

233 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 2009 کی امید بھی دلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ڈرانا ہماری بھلائی اور ہمیں سیدھے راستے پر چلانے کے لئے ہی ہے۔اللہ تعالیٰ تو جیسا کہ میں نے کہا دلوں کا حال جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہماری استعدادوں اور صلاحیتوں کی وسعت کا بھی علم ہے۔اس لئے اُس نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ اگر تم تقوی دل میں رکھو نیتیں صاف رکھو اور اپنے عمل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بجالانے کی کوشش کرو تو جو جو کوتاہیاں اور لغزشیں ہوتی ہیں انہیں وہ اپنی وسیع تر مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لیتا ہے۔جیسا کہ وہ اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے فرماتا ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ یہ اچھے عمل والے وہ لوگ ہیں جو سوائے سرسری لغزش کے بڑے گنا ہوں اور فواحش سے بچتے ہیں۔یقیناً تیرا رب وسیع بخشش والا ہے وہ تمہیں سب سے زیادہ جانتا تھا جب اس نے زمین سے تمہاری نشو و نما کی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں محض جنین تھے۔پس اپنے آپ کو یونہی پاک نہ ٹھہرایا کرو، وہی ہے جو سب سے زیادہ جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے گناہوں اور فواحش سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور ساتھ ہی معمولی لغزشوں ،غلطیوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر فرماتے ہوئے اپنی وسیع تر مغفرت کی وجہ سے بخشش کی بھی نوید دی ہے۔لیکن ساتھ ہی آگے یہ بھی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اندرونے سے واقف ہے۔اور کہاں تک واقف ہے؟ ہمیں سمجھانے کے لئے اس انتہا کا بھی ذکر کیا کہ جب اس زمین میں زندگی کے آثار پیدا کئے۔انسان کی پیدائش سے اربوں سال پہلے وہ ضروری لوازمات پیدا کئے جو انسان کی بقا کے لئے ضروری تھے۔اُس وقت سے وہ تمہیں جانتا ہے۔پھر کس فطرت میں انسان کو پیدا کرنا ہے، کیا کیا صلاحیتیں اور استعداد میں عطا کرنی ہیں، یہ ایک گہرا مضمون ہے جس کی طرف بعض دوسری آیات را ہنمائی فرماتی ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمہارا اتنا گہرا علم رکھتا ہے جتنا تم خود بھی نہیں رکھتے اور اس پیدائش اور نشو و نما کے عمل کا تم میں سے جو اکثریت ہے وہ علم بھی نہیں رکھتی۔اس کا احاطہ کرنا تو دور کی بات ہے علم بھی نہیں ہے۔اب اس زمانہ میں سائنسی تحقیق سے اس نظام کی تخلیق کے بارے میں بعض باتیں پتہ لگ رہی ہیں اور وہ بھی ایک خاص طبقے اور اس علم کا ادراک رکھنے والے لوگوں کو ہی اس کی سمجھ آتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے اُس وقت سے علم ہے کہ تمہاری صلاحیتیں کیا ہیں اور تمہارے عمل کیا ہونے ہیں اور تمہاری نیتیں کیا ہیں پھر اس سے ذرا نیچے آؤ۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنو جب تم ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی صورت میں تھے ، ابھی تمہارے اعضاء کی نشو ونما ہو رہی تھی ، اس وقت کا بھی میں علم رکھتا ہوں۔آج کل ترقی یافتہ ملکوں میں بھی بلکہ بعض ترقی پذیر ملکوں میں بھی طب کے میدان میں اتنی ترقی ہو گئی ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں حمل کے دوران بننے والی مختلف شکلیں الٹرا ساؤنڈ کے ذریعہ سے پتہ لگ جاتی ہیں اس لئے لوگ اکثر جانتے ہیں اور پتہ بھی کر لیتے ہیں کہ لڑکا پیدا ہونا ہے یا لڑکی پیدا ہونی ہے۔عموماً ایک اندازے سے ڈاکٹر بتاتے ہیں سو فیصد تو وہ بھی نہیں بتا سکتے۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اس حالت سے گزرنے کے دور سے ہی یہ علم رکھتا ہے کہ تم کن