خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 162

162 خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہیں اور اپنے بھائی سے لڑتا ہے۔یہ بہت ہی نا مناسب حرکت ہے۔یہ نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ ایک اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو کیا حرج ہے۔بعض آدمی ذراذراسی بات پر دوسرے کی ذلت کا اقرار کئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتے۔ان باتوں سے پر ہیز کر نالا زم ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستا رہے۔پھر یہ کیوں اپنے بھائی پر رحم نہیں کرتا اور عفو اور پردہ پوشی سے کام نہیں لیتا۔چاہئے کہ اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے اور اس کی عزت و آبرو پر حملہ نہ کرے۔فرماتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی کتاب میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک بادشاہ قرآن لکھا کرتا تھا۔(پرانی روایتیں حکایتیں ہوتی ہیں ایک ملاں نے کہا کہ یہ آیت غلط لکھی ہے۔بادشاہ نے اُس وقت اس آیت پر دائرہ کھینچ دیا کہ (ٹھیک ہے بعد میں اس کو دیکھ لوں گا ) اس کو کاٹ دیا جائے گا۔جب وہ چلا گیا تو اس دائرہ کو کاٹ دیا۔جب بادشاہ سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا ( بجائے لفظ کاٹنے کے آپ نے دائرہ کاٹ دیا۔) تو اس نے کہا کہ دراصل وہ (ملاں ) غلطی پر تھا مگر میں نے اس وقت دائرہ کھینچ دیا کہ اس کی دلجوئی ہو جاوے“۔( با وجود اختیارات ہونے کے اس نے یہ عاجزی دکھائی۔برداشت کا حوصلہ دکھایا کہ تم با وجو د میری رعیت ہونے کے میرے سامنے کس طرح بول سکتے ہو۔پھر بھی اس کی ستاری کر لی ، اسے اپنے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالیا کہ ٹھیک ہے تم کہتے ہو تو میں اس پر دائرہ لگادیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ معیار ہونا چاہئے۔) فرمایا " یہ بڑی رعونت کی جڑ اور بیماری ہے کہ دوسرے کی خطا پکڑ کر اشتہار دے دیا جاوے۔ایسے امور سے نفس خراب ہو جاتا ہے اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔غرض یہ سب امور تقوی میں داخل ہیں اور اندرونی بیرونی امور میں تقویٰ سے کام لینے والا فرشتوں میں داخل کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کوئی سرکشی باقی نہیں رہ جاتی “۔فرشتوں کا کام تو اطاعت ہے۔تقویٰ کا یہ معیار ہو گا تو فرشتوں میں داخل ہو جائے گا۔اس میں کوئی کسی قسم کی سرکشی باقی نہیں رہتی۔” تقویٰ حاصل کرو کیونکہ تقویٰ کے بعد ہی خدا تعالیٰ کی برکتیں آتی ہیں۔متقی دنیا کی بلاؤں سے بچایا جاتا ہے۔( آج کل ہر کسی پر بیشمار بلائیں مصیبتیں ، ابتلائیں آتی رہتی ہیں۔فرمایا تقوی اختیار کرو تو بلاؤں سے بچائے جاؤ گے۔خدا ان کا پردہ پوش ہو جاتا ہے۔جب تک یہ طریق اختیار نہ کیا جاوے کچھ فائدہ نہیں۔ایسے لوگ میری بیعت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔فائدہ ہو بھی تو کس طرح جبکہ ایک ظلم تو اندر ہی رہا۔(اگر پردہ پوشی نہیں۔فرمایا: یہ بھی ایک ظلم ہے باقی جو نیکیاں کر بھی لیں۔بیعت بھی کر لی تو یہ ظلم اگر اندر دل میں رہا تو فائدہ نہیں ہو سکتا )۔فرمایا کہ اگر وہی جوش، رعونت، تکبر، معجب ، ریا کاری ، سریع الغضب ہونا باقی ہے جو دوسروں میں بھی ہے تو پھر فرق ہی کیا ہے؟“۔( تکبر بھی پیدا ہورہا ہے۔بناوٹ اور تصنع بھی ہے فوری طور پر غصے میں آ جانا بھی ہے تو فرق کیا ہوا ) فرمایا سعید ( نیک فطرت ) اگر ایک ہی ہو اور وہ سارے گاؤں میں ایک ہی ہو تو لوگ کرامت کی طرح اس سے متاثر ہوں گے۔نیک انسان جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نیکی اختیار کرتا ہے اس میں ایک ربانی رعب ہوتا ہے اور دلوں میں پڑ جاتا ہے