خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 69
69 خطبہ جمعہ فرموده 15 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ۔إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل: 79) کہ سورج کے ڈھلنے سے شروع ہو کر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر اور فجر کی تلاوت کو بھی اہمیت دے یقینا فجر کے وقت قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اس کی گواہی دی جاتی ہے۔اس آیت میں صلوۃ کے مختلف اوقات کا ذکر ہے۔ظہر کی نماز سے شروع کیا گیا ہے اور فجر تک کے اوقات بیان فرما دیئے ہیں اور نماز کے یہ پانچ اوقات رکھنے کی حکمت کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں وضاحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” خدا نے اپنے قانون قدرت میں مصائب کو پانچ قسم پر منقسم کیا ہے یعنی آثار مصیبت کے جو خوف دلاتے ہیں۔اور پھر مصیبت کے اندر قدم رکھنا۔پہلی بات یہ یعنی آثار مصیبت کے جو خوف دلاتے ہیں اور پھر مصیبت کے اندر قدم رکھنا۔اور پھر ایسی حالت جب نومیدی پیدا ہوتی ہے اور پھر زمانہ تاریک مصیبت کا۔اور پھر صبح رحمت الہی کی یہ پانچ وقت ہیں جن کا نمونہ پانچ نمازیں ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ( یاداشتیں صفحہ 7) روحانی خزائن جلد نمبر 21 صفحہ نمبر 422) پھر آپ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو کہ یہ جو پانچ وقت نماز کے لئے مقرر ہیں۔یہ کوئی تحکم اور جبر کے طور پر نہیں“۔جبر نہیں کیا گیا کہ ضرور پڑھو۔بلکہ اگر غور کرو تو یہ دراصل روحانی حالتوں کی ایک عکسی تصویر ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ یعنی قائم کرو نماز کو دُلُوكِ الشَّمْسِ سے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں قیام صلوۃ کو دُلُوک شَمْس سے لیا ہے۔دُلُوک کے معنوں میں گواختلاف ہے۔لیکن دو پہر کے ڈھلنے کے وقت کا نام دلوک کہے۔اب ڈلوک سے لے کر پانچ نمازیں رکھ دیں۔اس میں حکمت اور سر کیا ہے؟ قانون قدرت دکھاتا ہے کہ روحانی تذلل اور انکسار کے مراتب بھی ڈلوک ہی سے شروع ہوتے ہیں۔اور پانچ ہی حالتیں آتی ہیں۔پس یہ طبعی نماز بھی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حزن اور ہم وغم کے آثار شروع ہوتے ہیں۔اس وقت جبکہ انسان پر کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو کس قدر تذلل اور انکساری کرتا ہے۔اب اس وقت اگر زلزلہ آوے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ طبیعت میں کیسی رقت اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح پر سوچو کہ اگر مثلا کسی شخص پر نالش ہو۔کوئی کیس ہو جائے تو سمن یا ورانٹ آنے پر اس کو معلوم ہوگا کہ فلاں دفعہ فوجداری یاد یوانی میں نالش ہوئی ہے۔اب بعد مطالعہ وارنٹ اس کی حالت میں گویا نصف النہار کے بعد زوال شروع ہوا۔کیونکہ وارنٹ یاسمن تک تو اسے کچھ معلوم نہ تھا۔اب خیال پیدا ہوا کہ خدا جانے ادھر وکیل ہو یا کیا ہواس قسم کے ترڈ دات اور تفکرات سے جو زوال پیدا ہوتا ہے یہ وہی حالت دلوک ہے۔اور یہ پہلی حالت ہے جونماز ظہر کے قائم مقام ہے اور اس کی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہو۔فریق مخالف اور عدالت کی طرف سے سوالات جرح ہورہے ہیں اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔یہ وہ حالت اور وقت ہے جو نماز عصر کا نمونہ ہے۔کیونکہ عصر گھوٹنے اور نچوڑنے کو کہتے ہیں۔جب حالت اور بھی نازک ہو جاتی ہے اور فرد قرار داد جرم لگ جاتی ہے تو پاس اور نا امیدی بڑھتی ہے کیونکہ اب خیال ہوتا ہے کہ مزائل جاوے گی۔یہ وہ وقت ہے جو مغرب کی نماز کا عکس ہے۔پھر جب حکم سنایا گیا اور کنسٹبل یا کورٹ انسپکٹر کے حوالہ کیا گیا تو وہ روحانی طور پر نماز عشاء کی عکسی تصویر ہے۔