خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 68
خطبات مسرور جلد ششم 68 خطبہ جمعہ فرموده 15 فروری 2008 کی ضرورت ہے وہ نماز ہے۔اور شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہے گا کہ یہ ہتھیار مومن سے چھن جائے۔پس جس طرح ایک اچھا سپاہی کبھی اپنا ہتھیار دشمن کے ہاتھ لگنے نہیں دیتا۔ایک حقیقی مومن بھی کبھی اپنے اس ہتھیار کی حفاظت سے غافل نہیں ہوتا۔انسانی فطرت ہے کہ برائیوں کی طرف بار بار توجہ جاتی ہے اس لئے اس کی حفاظت بھی ایک مستقل عمل چاہتی ہے اور اس کی مستقل حفاظت کے لئے ، اس مستقل عمل کو جاری رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ نمازوں کی حفاظت کرو۔فرمایا ہے حفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى وَقُوْمُوا لِلَّهِ قَبَتِيْنَ (البقرة: 239) - کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص مرکزی نماز کی اور اللہ کے حضور فرمانبرداری کرتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ۔تو یہ ایک اصولی بات بتادی کہ نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر درمیانی نماز کا خیال کرو۔مختلف مفسرین نے درمیانی نماز کی اپنے اپنے ذوق یا علم کے مطابق تفسیر کی ہے۔کسی نے تہجد کی نماز کسی نے فجر کی نماز کسی نے ظہر وعصر کی نماز مراد لی ہے۔بہر حال یہاں ایک اصولی ہدایت آ گئی کہ صَلوةُ الوسطی کی حفاظت کرو اور ہر ایک کے حالات کے لحاظ سے درمیانی نماز وہ ہے جس میں دنیاداری یاستی اسے نماز قائم کرنے سے روکتی ہے یا نماز سے غافل کرتی ہے، جب شیطان اس کی توجہ نماز کی بجائے اور دوسری چیزوں کی طرف کروارہا ہوتا ہے۔پس اس وقت اگر ہم شیطان سے بیچ گئے اور اس کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا تو سمجھو کہ ہم نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور جب یہ صورت ہوگی تو جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے پھر نماز ہماری حفاظت کرے گی۔فرضوں کی حفاظت سنتیں کریں گی اور سنتوں کی حفاظت نوافل کریں گے اور یہی ایک مومن کی پہچان ہے۔اور جب یہ حالت ہوگی تو پھر شیطان کا دور دور تک پتہ نہیں چلے گا۔ایسے لوگوں کے قریب بھی شیطان پھٹکا نہیں کرتا۔پس یہ ایک مسلسل عمل ہے اور یہی حالت ہے جو حقیقی فرمانبرداری کی حالت ہے اور یہی حالت ہے جو بیعت کرنے کے بعد پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والی حالت ہے۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت ہر احمدی مسلمان پر خاص طور پر فرض ہے کیونکہ اس نے اپنے اس عہد کی تجدید کی ہے کہ میں اپنی پرانی بیماریوں کو دور کرنے کے لئے مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہوتا ہوں۔جب یہ عہد باندھا ہے تو اس عہد کو مضبوط تر کرنے کے لئے فرمانبرداری کے کامل نمونے دکھانے کے لئے ان راستوں پر بھی چلنے کی کوشش کرنی ہوگی جن سے یہ عہد بیعت مضبوط سے مضبوط تر ہوتا ہے اور جس سے شیطان سے جنگ کرنے کی قوت ملتی ہے۔جس سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کے راستے دکھائی دیتے ہیں۔جس سے ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور جس سے ایک مومن فَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ کے نظارے دیکھتے ہوئے اپنی دعاؤں کو عرش تک پہنچتے ہوئے دیکھتا ہے۔جس سے ایک مومن نیکیوں کے معیار بلند ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔جس سے قبولیت دعا کے نشان مومن پر ظاہر ہوتے ہیں۔پس جبکہ یہ معیار حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی اپنے دل میں شدید خواہش اور تڑپ رکھتا ہے تو پھر نمازوں کے معیار بلند کرنے کی بھی ایک تڑپ کے ساتھ ضرورت ہے۔یعنی ہماری نمازوں کے معیار بھی بلند ہوں اس کے لئے بھی ایک تڑپ پیدا کرنی ہوگی۔آج کی دنیا میں مصروفیت کے نام پر بعض نمازیں جمع کر لی جاتی ہیں۔بعض جائز مجبوریاں ہوں تو ٹھیک ہے لیکن بغیر مجبوری کے بھی بعض لوگوں کا معمول ہوتا ہے کہ نمازیں جمع کر لیں۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہر نماز کا وقت مقررفرمایا ہے اور دن کی پانچ نماز میں مقررفرمائی ہیں۔