خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 66

خطبات مسرور جلد ششم 66 خطبه جمعه فرمودہ 15 فروری 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام آخَرِيْنَ مِنْهُمْ کے الفاظ کے متعلق کہ کیوں یہاں جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: " اس آیت میں اس تفہیم کی غرض سے بھی یہ لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ تا ظاہر کیا جائے کہ وہ آنے والا ایک نہیں رہے گا بلکہ وہ ایک جماعت ہو جائے گی جن کو خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو گا اور وہ اس ایمان کے رنگ و بو پائے گی جو صحابہ کا ایمان تھا۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 220) پس یہ وہ معیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے والوں کا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا اور آپ نے اس کی وضاحت فرمائی۔جس کے حصول کے لئے ، جس کے قائم رکھنے کے لئے اور نہ صرف اپنے اندر قائم رکھنے کے لئے بلکہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے ماحول میں بھی قائم رکھنے کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔اور اس کے حصول کے لئے وہ طریق اپنانے ہوں گے جن کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے وہ اسلوب سیکھنے ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں سکھائے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تزکیہ نفس کے لئے برائیوں سے بچنے کے لئے نماز کو ایک بہت بڑا ذریعہ قرار دیا ہے جیسا کہ جو آیت میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس میں وہ فرماتا ہے کہ اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ کہ جو کتاب میں سے تیری طرف وحی کیا جاتا ہے اسے پڑھ۔اور نہ صرف پڑھ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الكتاب جو کتاب میں سے تیری طرف وحی کیا جاتا ہے اسے پڑھ اور پڑھ کر سنا۔وَأَقِمِ الصَّلوة اور نماز کو قائم کر۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر یقینا نماز بے حیائی اور ہر نا پسندیدہ بات سے روکتی ہے وَلَذِكْرُ اللَّهِ اَكْبَرُ۔اور اللہ کا ذکر یقیناً سب ذکروں سے بڑا ہے۔وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔اس آیت میں جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں دیکھا کہ جہاں تلاوت کرنے کا حکم ہے، اس پیغام کو پہنچانے کا حکم ہے وہاں ساتھ ہی فرمایا ہے اقسم الصلوۃ کہ نماز قائم کر کیونکہ اس کو تمام لوازمات کے ساتھ قائم کرنا اور خالص ہو کر پڑھنا، پاک کرنے کا ذریعہ بنے گا۔یہ قرآن جو تزکیہ کرنے کی تعلیم سے پُر ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق خدا کی مدد سے ملے گی۔پس جب ایک مومن بندہ خالص ہو کر اس کے آگے جھکے گا اور اس پر اس تعلیم کا اثر ہو گا اور برائیوں سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوگا اور پھر خالص ہو کر ادا کی گئی نماز میں بعد میں بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زبانوں کو تر رکھنے کی طرف توجہ دلائیں گی تو ایسا شخص یقینا اپنے نفس کا تزکیہ کرنے والا ہوگا۔پس نماز کی طرف توجہ ہر احمدی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔لیکن کس طرح؟ کیا صرف ایک دونمازیں ؟ نہیں، بلکہ پانچ وقت کی نمازیں۔اگر یہ نہیں تو عبادت کے معیار حاصل کرنے کا ابھی بہت لمبا سفر طے کرنا ہے۔پہلوں سے ملنے کے لئے ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔پانچ فرض نمازیں تو وہ سنگ میل ہے جہاں سے معیاروں کے حصول کا سفر شروع ہونا ہے۔پانچ نمازیں تو نیکی کا وہ بیج ہے جس نے پھلدار درخت بننا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تم پنجوقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کئے جاؤ گے ، اور جس میں بدی کا بیج ہے وہ اس نصیحت پر قائم نہیں رہ سکے گا۔(مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 221) جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا کہ نمازیں نیکی کا بیج ہیں پس نیکی کے اس بیج کو ہمیں اپنے دلوں میں اس حفاظت سے لگانا ہوگا اور اس کی پرورش کرنی ہوگی کہ کوئی موسمی اثر اس کو ضائع نہ کر سکے۔اگر ان نمازوں کی حفاظت نہ کی تو