خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 61

خطبات مسرور جلد ششم 61 خطبه جمعه فرموده 8 فروری 2008 اپنے نکتہ نظر میںتبدیلی کر لی ہے اور مطلب یہ تھا کہ آخرکو ماری یعنی پیغامیوں کی فتح ہوگئی ہے اوراب احمدیوں نے بھی نعوذ باللہ تسلیم کر لیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی نہیں ہیں بلکہ مسجد داور مرشد ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری انڈو نیشین انتظامیہ کی وہ کمیٹی کو حکومتی افسران سے بات کرنے کے لئے گئی تھی ان کے دل میں اس بات کا شائبہ تک نہیں تھا کہ ہم حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو سیح، مہدی اور نبی نہیں مانتے اور نہ ہی کبھی کوئی احمدی یہ سوچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے انڈونیشین جماعت اخلاص و وفا میں بہت بڑھی ہوئی جماعت ہے اور صف اول کی جماعتوں میں سے ہے۔ان کی جان اور مال کی قربانیاں جو وہ احمدیت کی خاطر دے رہے ہیں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ان کے اخلاص و وفا میں کوئی کمی نہیں۔پس یہ انڈونیشین جماعت پر بھی غلط الزام ہے اور الزام ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ انہوں نے وقتی مفاد کی خاطر کمزوری دکھائی ہے۔حکومت نے جس بیان پر دستخط لئے تھے اس پر ایسے واضح الفاظ نہیں تھے۔اس کی بعض شقیں تھیں جن کو ماننے سے کسی احمدی پر یہ حرف نہیں آتا کہ اس نے اپنے ایمان کے خلاف بات کی ہے۔پس کسی انڈو نیشین احمدی پر یہ الزام نہیں آتا کہ اس نے اپنے ایمان میں کمزوری دکھائی ہے اور اس بات کا اظہار بھی انہوں نے میرے سامنے پیغام میں بھی اور خط میں بھی کیا ہے۔لیکن کیونکہ معین طور پر مسیح و مہدی کے الفاظ وہاں نہیں لکھے گئے تھے اس لئے اخبار کو بھی صحافتی ہوشیاری دکھانے کا موقع مل گیا اور ایسی خبر لگادی جس کا کسی احمدی کے دل میں شائبہ تک نہیں تھا۔بہر حال پیغامیوں نے پھر اس خبر کو اچک لیا اور خوب اچھالا۔لیکن جب میں نے بھی گزشتہ ایک خطبہ میں واضح طور پر بیان کر دیا اور اخبار نے بھی ہمارا واضح موقف شائع کر دیا ( بہر حال یہ اس اخبار کی شرافت تھی ) تو پھر بھی ان پیغامیوں کا اصرار اور شور مچانا اور یہاں ہمارے پریس سیکشن میں بھی فون کر کے یہ کہنا کہ ابھی بھی واضح نہیں ہے، سوائے ان کی ڈھٹائی کے کوئی اور چیز نہیں ہے۔ان کی تسلی تو خدا ہی چاہے تو ہوسکتی ہے۔جو کسی بات پر اڑ جائیں اور ماننے کو تیار نہ ہوں انسان پھر ان کی تسلی کروا سکتا ہے؟ ہم نے تو جو کہنا تھا وہ کہہ دیا۔بہر حال آج میں پھر ایک دفعہ اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ پیغامیوں یا غیر مبائع لوگوں سے کہوں کہ خدا کا خوف کرو۔آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کو دیکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پر غور کرو اور پھر اپنے جائزے لو۔کیا جو مؤقف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں تمہارا ہے اس سے تمہارے قدم کسی ترقی کی طرف آگے بڑھے ہیں؟ کیا انجمن کو خلافت پر بالا سمجھنے والوں نے دنیا میں اسلام اور احمد بیت کا جھنڈا گاڑا ہے یاکسی درد کے ساتھ یہ جھنڈا گاڑنے کی کوشش کی ہے؟ یا پھر یہ بات ان کے حصہ میں آئی ہے جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کو مسیح و مہدی اور نبی سمجھتے ہیں اور آپ کے بعد خلافت کو برحق سمجھتے ہیں۔بیعت خلافت میں آنے والوں نے تو دنیا کے 189 ممالک میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا دیا۔تم نے کیا کیا ہے؟ کیا خدا تعالیٰ کی فعلی شہادتیں نبی ماننے والوں کے ساتھ ہیں یا صرف ایک گرو یا مرشد یا مجد د ماننے والوں کے ساتھ ہیں۔پس خدا کا خوف کرتے ہوئے اس ڈھٹائی کو ختم کرو اور دیکھو کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ان کی کتابیں شائع بھی کرتے ہو۔چھاپتے بھی ہو۔پڑھنے کی بھی توفیق ملے اور سمجھنے کی توفیق ملے۔خود ہی قرآن کھول کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کے بارے میں خدا تعالیٰ کیا کہتا ہے جو کچھ پر تو ایمان لانا چاہتے ہیں اور کچھ کو چھوڑ نا چاہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعے سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے