خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 60
خطبات مسرور جلد ششم 60 خطبه جمعه فرمودہ 8 فروری 2008 میرے پاس کیا کہ فتنے کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اگر بعض باتیں مانی بھی پڑیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ساتھ یہ لکھا کہ مجھے صحیح حالات کا علم نہیں ہے یا ہمیں صحیح حالات کا علم نہیں ہے ، یہ بھی ہو سکتا ہے۔اور مثال میں مثلاً ایک جگہ یہ لکھا گیا کہ آنحضرت ﷺ نے بھی صلح حدیبیہ میں یہ بات مان لی تھی کہ رسول اللہ کا لفظ مٹادو۔تو پہلی بات تو یہ کہ مٹایا کس نے تھا ؟ آنحضرت ﷺ نے مٹایا تھا۔حضرت علیؓ نے تو انکار کر دیا تھا۔انہوں نے یہ عرض کی تھی کہ میرے آقا میرے سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔اس پر جیسا کہ میں نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ نے اس جگہ جہاں لفظ لکھا ہوا تھا دیکھ کر رسول اللہ کا لفظ خود اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا اور یہ فرمایا جن کفار کے ساتھ معاہدہ ہو رہا ہے یہ تو کیونکہ مجھے اللہ کا رسول نہیں مانتے، اس لئے میں اس کو مٹادیتا ہوں۔(مسلم کتاب الجہاد والسیر باب صلح الحدیبیہ حدیث نمبر 4521) لیکن جو آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول مانتے تھے انہوں نے تو یہ حرکت کرنے کی جرات نہیں کی اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان کے جذبات کو سمجھتے ہوئے حکم نہیں دیا کہ نہیں، تم کرو۔پس ہمارا کام نہیں کہ ہم مداہنت کا پہلواختیار کریں اور کوئی ایسا کام کریں جس سے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے مقام کی سبکی ہوتی ہو۔ہم حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کو سیح موعود اور مہدی موعود سمجھتے ہیں اور اس سے الگ ہو کر ہم کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔اس سے الگ ہو کر ہماری کوئی حقیقت نہیں ہے۔ہماری خوبصورتی جو ہے وہ اسی بات میں ہے کہ ہم مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہو گئے ہیں مسیح موعود سمجھتے ہوئے ، جس نے ظلمت اور نور میں فرق ظاہر کر دیا۔ہمارا تو موقف اور دعوی یہ ہے کہ اس ظلمت کے زمانے میں اس مسیح و مہدی نے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کی حقیقت کو ہم پر کھول دیا ہے اور ہمارے دلوں کو اس کے حقیقی نور سے منور کیا ہے۔اس مسیح و مہدی نے ہی تو ہمیں قرآنی تعلیم کے مطابق خدا سے ملنے کے اسلوب سکھائے ہیں۔اس مسیح و مہدی اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق ہی نے تو ہمیں عشق رسول عربی میں ڈوبنے کے نئے نئے طریق سکھائے ہیں۔کیا ہم اس مسیح و مہدی کو جس کا نام خود آنحضرت ﷺ نے مسیح مہدی رکھا ہے اور ہمارا مہدی کہہ کر پکارا ہے صرف عارضی تکلیفوں کی وجہ سے یا مولوی یا حکومت کو خوش کرنے کی خاطر مسیح و مہدی کہنا چھوڑ دیں۔جن نشانیوں کو پورا کرتے ہوئے مسیح و مہدی نے آنا تھا وہ نشانیاں بھی پوری ہو گئیں اور دعوی بھی موجود ہے اور زمانے نے تمام تقاضے بھی پورے کر دیئے تو کیا یہ سب دیکھ کر دوسروں کے خوف کی وجہ سے یہ کہیں کہ گو آنحضرت ﷺ نے اس آنے والے کا نام سیح و مہدی رکھا تھا لیکن ہم دنیا کو خوش کرنے کے لئے اس کے ماننے والوں میں شامل ہونے کے باوجود اس کا کچھ اور نام رکھ دیتے ہیں اور اس کے بدلے میں تم ہمیں جو عارضی تکلیفیں پہنچا رہے ہو یہ نہ پہنچاؤ۔کیا ہم اللہ تعالی کے سورج اور چاند گرہن کے نشان کو دیکھ کرمسیح و مہدی کی بجائے کسی اور پر اس کو پورا سمجھنے والے بن جائیں یا نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی گواہی کو جھوٹا کرنے والے بن جائیں؟ کیا ہم قرآنی پیشگوئیوں اور ان کے اس زمانے میں پورا ہونے کو جھوٹا قرار دے دیں۔کیا ہم ایک طرف تو آپ کی بیعت میں شامل ہونے والے ہوں ، آپ کو اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ سمجھنے والے ہوں اور دوسری طرف آپ کے اس الہام کو غلط سمجھیں جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی ہے کہ اِنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدَ الَّذِي يَرْقُبُوْنَهُ وَالْمَهْدِى الْمَسْعُوْدَ الَّذِي يَنْتَظِرُوْنَهُ هُوَ اَنْتَ یعنی یقینا وہ مسیح موعود اور مہدی موعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تو ہے۔اور پھر فرمایا وَ لَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔( اتمام الحجة - روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 275) کیا مصلحت کی خاطر ان باتوں پر عمل کرنے والے بن کر ہم احمدی کہلا سکتے ہیں۔پس مسیح و مہدی کا انکار تو پھر احمدیت کا انکار ہو گا اور یہ بات بھی کوئی احمدی برداشت نہیں کر سکتا۔اخبار نے حکومت اور احمدیوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس خبر کی جس طرح اشاعت کی تھی، اس سے پیغامی یا لاہوری یا غیر مبائع جو ہیں ان کو بھی شور مچانے کا موقع مل گیا۔ان لوگوں میں بھی جوش پیدا ہوا۔باسی کڑھی کو بھی ابال آیا اور انہوں نے خبر شائع کی کہ احمدیوں نے