خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 375

375 خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم گئے ہیں اور یہ سبق نو جوانوں کے لئے بھی اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں کہ دیکھنا جان جائے تو چلی جائے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت پر حرف نہ آنے دینا۔خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا۔ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب بڑی پیاری طبیعت کے مالک تھے۔اخلاص و وفا میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔میرا ذاتی طور پر پہلے بھی ان سے تعلق تھا۔سندھ کے سفروں میں اور پھر ناظر اعلیٰ کی حیثیت سے بھی پرانا تعلق تھا۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس خاندان سے ہی ہمارا پرانا تعلق تھا۔ان کے والد صاحب بھی جب ربوہ آتے تھے تو ہمارے والد صاحب کے پاس ضرور آتے اور ہمارے گھر میں پھر لمبی مجلسیں لگا کرتی تھیں، خاص طور پر شوری کے بعد ، جہاں جماعتی معاملات بڑی دیر تک ڈسکس (Discuss) ہوتے رہتے تھے۔ان کے والد کا نام ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی تھا۔ان کا بھی جیسا کہ میں نے کہا جماعت سے گہرا تعلق تھا۔خلافت سے وفا کا بڑا گہرا تعلق تھا۔ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کے والد صاحب کی ایک جھلک میں بتا دیتا ہوں۔وہ بھی تقریباً 40 سال تک امیر ضلع میر پور خاص اور ڈویژنل امیر حیدر آباد ر ہے۔جب پاکستان بنا ہے تو اس کے بعد ہجرت کر کے جب عبد الرحمن صدیقی صاحب پاکستان آئے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے مستقبل کے بارہ میں رہنمائی کی درخواست کی۔جس پر حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ میر پور خاص سندھ چلے جائیں اور وہیں سیٹ ہو جائیں وہاں ہماری سٹیٹس بھی ہیں، ان کو آپ کی مدد حاصل رہے گی اور آپ کو ان کا تعاون حاصل رہے گا۔چنانچہ وہ بغیر کسی چوں چرا کے وہاں چلے گئے ، جا کر آباد ہو گئے اور بڑے اخلاص سے جماعت کی وہاں خدمت کرتے رہے۔یہ ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب جو شہید ہوئے ہیں یہ ڈاکٹر عبدالرحمان صدیقی صاحب کی اکلوتی اولاد تھے اور شادی کے گیارہ سال بعد پیدا ہوئے تھے۔سندھ میڈیکل کالج سے انہوں نے ایم بی بی ایس کیا۔پھر 1988ء میں امریکہ چلے گئے۔وہاں سے الٹرا ساؤنڈ کی ٹرینینگ لی۔پھر انٹرنل میڈیسن میں فلاڈیلفیا کی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجوایشن کیا اور امریکن بورڈ آف انٹرنل میڈیسن کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا۔پھر تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر منان صدیقی صاحب نے وہاں ہی ملازمت کا پروگرام بنایا۔لیکن آپ کے والد کو جب پتہ لگا کہ میرے بیٹے نے وہیں رہنے کا پروگرام بنایا ہے تو انہوں نے انہیں لکھا کہ آپ کو اس علاقے کی خدمت کے لئے میڈیکل کی میں نے تعلیم دلوائی ہے جہاں حضرت مصلح موعود نے مجھے فرمایا تھا کہ بیٹھ جاؤ اور لوگوں کی خدمت کرو۔ان غریب لوگوں کی خدمت کے لئے میں نے تمہیں میڈیکل کروایا ہے اور امریکہ بھیج کے بھی پڑھایا ہے اور تم نے بھی یہاں ہی خدمت کرنی ہے اور یہی میری خواہش ہے تا کہ یہ سلسلہ جاری رہے تو اپنے والد صاحب کی خواہش کو انہوں نے پورا کیا اور امریکہ سے فوراً چھوڑ کر میر پور خاص تشریف لے آئے اور یہاں خدمت کا سلسلہ شروع کیا۔