خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد ششم 361 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ستمبر 2008 رکھا جاتا جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اور تمام اُن باتوں کو نہیں کیا جاتا جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے تو تمہارے بھوکا رہنے کی خدا تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔( بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم حدیث 1903) پس ہم نے ان دنوں میں یہ ٹرینگ لینی ہے کہ اپنے آپ کو اُن پابندیوں میں جکڑنا ہے اس لئے تا کہ خدا تعالیٰ پھر ہمیں تمام اوامر و نواہی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔تا کہ ہمارے ان اعمال سے وہ راضی ہو جن کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے اور وہ ہمیشہ ہماری ڈھال بن کر رہے اور جس طرح دشمن کے ہر حملے سے اپنے خاص بندوں کو محفوظ رکھتا ہے، ہمیں بھی بچائے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ جو رمضان کا مہینہ ہے، جو روزہ رکھنے کے دن ہیں، ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ ان دنوں میں میری خاطر، میری رضا کے حصول کی خاطر، صرف ناجائز چیزوں سے ہی نہیں بچنا بلکہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ کو تو ایک خاص کوشش سے معمولی سے بھی ناجائز کام سے بچا کر رکھنا ہے۔اس کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک مجاہدہ تو کرنا ہی ہے لیکن جائز چیزوں سے بھی بچنا ہے۔ایک ایسا جہاد کرنا ہے جس سے تمہارے اندرصبر اور برداشت پیدا ہو اور ڈسپلن پیدا ہو۔پھر یہ مجاہدہ ایسا ہو گا جو تمہاری روحانی حالتوں کو بہتر کرنے کا ذریعہ بنے گا۔اللہ کا قرب دلانے کا ذریعہ بنے گا، دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنے گا۔یہ جو آخری آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے روزوں کے احکامات کے ساتھ ان کے بعد بیان فرمایا ہے بلکہ اس آیت کے بعد بھی روزہ سے متعلقہ احکام ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے روزوں کے احکامات اور ان کی تفصیلات کے ساتھ اس آخری آیت میں جو میں نے تلاوت کی انی قریب کا اعلان فرمایا اور یہ اعلان فرمانا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ میری طرف آنے کے لئے جب تم رمضان کے مہینہ سے فیض اٹھانے کی کوشش کرو گے تو سن لو کہ یہ عبادت ایسی ہے جس کی جزائیں ہوں، اور جزا دینے کے لئے میں تمہارے بالکل قریب آچکا ہوں۔پس اگر میرے بندے میری اس بات پر عمل کرتے ہوئے جو کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العكوت : 70) یعنی اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے لئے مجاہدہ کرتے ہیں ، ہم ضرور ان کو اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔اور اللہ تعالیٰ نہ صرف آنے کی توفیق بخشتا ہے بلکہ ایسے آنے والے کو پکڑنے کے لئے خود بھی اس کے قریب ہو جاتا ہے جو اس کے راستے میں جہاد کر رہا ہو اور روزہ جس کی جزا خدا تعالیٰ خود ہے اس کا مجاہدہ کرنے والے کے بارے میں تو خدا تعالیٰ نے انی قریب کہہ کر خود ہی قریب ہونے کا اعلان فرما دیا۔