خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 319
319 خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم سورۃ المائدہ کی آیت کے شروع میں سابقہ کتب کا ذکر کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ لوگ اُس تعلیم کو بھول گئے جو انہیں دی گئی تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کتب میں تحریف شروع ہوگئی اور ان انعامات سے بھی وہ لوگ محروم ہو گئے۔اگر نہ بھولتے اس میں تحریف نہ کرتے تو انعام سے بھی محروم نہ ہوتے۔یہود و عیسائی پھر اس کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے ہوتے۔لیکن قرآن کریم کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اس میں تحریف نہیں ہو سکتی۔کوئی ردو بدل نہیں ہو سکتا۔اس کی حفاظت خدا تعالیٰ خود فرمائے گا۔ایک تو یہ تحریری صورت میں محفوظ ہے، گزشتہ 1500 سال سے محفوظ چلی آ رہی ہے، دوسرے لاکھوں حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہے۔اور پھر مجددین کے ذریعہ سے اس کی تعلیم پر عمل بھی ہمیشہ محفوظ رہا ہے۔چاہے تھوڑے پیمانے پر رہا ہو اور آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے بعد اس کی تعلیم کے مزید روشن پہلونکھار کر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہم پر ظاہر فرمائے۔اس لئے تعلیم کے بگڑنے کا تو سوال نہیں لیکن افراد کے بگڑنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔اس لئے ہر فرد کو بھی یہ تنبیہ کر دی گئی کہ اس تعلیم پر عمل کرو اور ان اعمال صالحہ اور نیکیوں کی طرف توجہ دو جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہو گے۔قرآن کریم میں یہ تنبیہ فرما دی کہ یہ قرآن کیونکہ نگران ہے اس لئے ہر فیصلہ اس کے مطابق ہونا چاہئے۔نیکیوں کے معیار اب اس کے مطابق مقرر ہونے چاہئیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں۔ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ هُم مِنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ (المومنون: 58) یعنی وہ لوگ اپنے رب کے رعب سے ڈرنے والے ہیں۔پھر فرمایا وَ الَّذِينَ هُم بِآيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ (المومنون : 59) وہ لوگ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔پھر فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمُ لَا يُشْرِكُونَ (المومنون: 60) اور وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔پھر فرماتا ہے وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا وَقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَ نَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ (المومنون (61) اور وہ لوگ کہ جو بھی وہ دیتے ہیں اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس خیال سے ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ یقیناً اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہ خصوصیات بیان کرنے کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُولئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ (المومنون : 62 ) کہ یہی وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ ان پر سبقت لے جانے والے ہیں۔پس ان آیات میں نیکیوں میں بڑھنے والوں کی کچھ خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ کہ دنیا داری ان کا مطمح نظر نہیں ہوتا۔جیسا کہ پہلے فرمایا تھا کہ تمہارا نطمح نظر بھلائی میں بڑھنا ہے بلکہ سب سے اہم چیز جن کی انہیں تلاش ہے وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق صرف ظاہری الفاظ کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خشیت ان کے دلوں پر