خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 316

خطبات مسرور جلد ششم 316 32 خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 فرمودہ مورخہ 08 راگست 2008ء بمطابق 08 ظهور 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: خدا تعالیٰ کی ایک صفت مهیمن ہے، اس لفظ کے اہل لغت نے مختلف معنے کئے ہیں، وہ میں پہلے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔لسان العرب، ایک لغت کی کتاب ہے، اس میں لکھتے ہیں کہ المُهَيْمِنُ اور الْمُهَيْمَنُ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو پرانی کتابوں میں بیان ہوئی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ وہ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ یعنی بعض لوگوں نے مُهَيْمِن کا مطلب گواہ کیا ہے جس کا معنی ہے کہ وہ اس پر گواہ ہے۔تو اس رُو سے وہ لکھتے ہیں کہ مھیمن کے معنی ہوں گے گواہ اور وہ ذات جو دوسروں کو خوف سے امن میں رکھے۔الا زهری، مشہور لغوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مھیمن کا مطلب ہے ، امین یعنی امانت دار۔بعض نے مُهَيْمِن کو موتمن کے معنوں میں بھی بیان کیا ہے یعنی وہ ذات جس کو امین سمجھا جائے۔مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ کے معنی ہیں وہ ذات جو مخلوقات کے معاملات پر نگران اور محافظ ہو۔مھیمن کے معنی بعض نے رقیب کے کئے ہیں یعنی وہ ذات جونگر ان ہو۔پھر ایک جگہ لغت میں کہتے ہیں، قرآن کریم کے مُهَيْمِنَّا عَلَيْهِ ہونے کا ایک معنی یہ کیا گیا ہے کہ یہ کتب سابقہ پر نگران اور محافظ ہے۔و ہیب سے مروی ہے کہ جب بندہ وجو دباری تعالیٰ میں فنا ہو جاتا ہے اور صدیقوں کی مُهَيْمَنِيَّ ت میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر کوئی مادی چیز ایسی نہیں رہتی جو اس کے دل کو بھائے۔مُهَيْمَنِیت کا لفظ مھیمن کی نسبت سے ہے اور اس سے مراد ہے صد یقین والا اطمینان قلب۔یعنی جب بندہ اُس درجہ کو پہنچ جاتا ہے تو نہ کوئی چیز بھاتی ہے اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی چیز اسے پسند آتی ہے۔پھر الْقَامُوس میں ہے کہ الْمُهَيْمِن یہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور مومن کے معنوں میں آیا ہے یعنی وہ ذات جو دوسروں کو خوف سے امن میں رکھنے والی ہو۔