خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 317

خطبات مسرور جلد ششم 317 خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 لغت کی ایک کتاب اَقْرَبُ الْمَوَارِد ہے اس میں لکھا ہے کہ مُهَيْمِن ، یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے، اس کا ہے،اس مطلب ہے کہ الامین۔امن دینے والا یا نگران - المُؤتَمَن وہ ذات جس کے پاس امانت رکھی جائے اور جس کو امین سمجھا جائے۔اَلشَّاهد گواہ - اَلْقَائِمُ عَلى خَلْقِهِ بِاَعْمَالِهِمْ َواَرْزَاقِهِمْ وَاجَالِهِمْ مُهَيْمِن وہ ذات جو اپنی مخلوقات کے اعمال اور ان کے رزق اور ان کی عمروں کی حدوں پر نگران اور محافظ ہو۔قرآن کریم میں اس صفت کا استعمال دو جگہ آتا ہے۔ایک سورۃ المائدہ کی آیت 49 اور سورۃ الحشر کی آیت 24 میں۔پرانے مفسرین نے بھی ان آیات کے حوالے سے اس کے بعض معنی بیان کئے ہیں۔پہلے میں مفسرین نے جولکھا ہے وہ بیان کر دیتا ہوں۔شیخ اسماعیل حقی تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کو جو مُهمِنَّا عَلَيْهِ کہا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام محافظ کتابوں کے تغیر و تبدل ہونے پر نگران ہے اور اب یہ قرآن اُن کی سچائی اور صحت اور پختگی اور شریعت کے بنیادی اور فروعی اصول کی گواہی دے گا اور پرانی شریعتوں کے جو احکام منسوخ ہو گئے اور جو باقی رہ گئے ان سب کی تعیین اب یہ کرے گا۔پس اب یہ قرآن کریم ہے جو آخری شرعی کتاب ہے اور آنحضرت ﷺ پر اللہ تعالی نے اتارا ہے۔جس کا ہر ہر لفظ بیچ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پرانی کتب کی تصدیق کرنے والا ہے۔اب اگر سچائی ہے تو قرآن کریم میں ہے اور پرانی کتب اور صحیفوں کی بھی وہی باتیں صحیح ہیں جن کی قرآن کریم تصدیق کرتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ اسے تمام کتب پر نگران بنایا گیا ہے جیسا کہ مفسرین نے بھی لکھا ہے۔سورۃ المائدہ کی آیت 49 کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقَاً لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَبِ وَمُهَيْمِناً عَلَيْهِ (المائدہ: 49) تو یہ تصدیق کے ساتھ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کی بھی یقین دہانی کرادی کہ پہلے صحیفوں کی ہمیشہ صحت سے رہنے کی تو کوئی ضمانت نہیں تھی۔لیکن یہ قرآن کریم کیونکہ ان پر اب نگران اور محافظ ہے اس لئے نگران اور محافظ ہونے کی حیثیت سے خود بھی محفوظ ہے۔اور اس بارے میں دوسری جگہ واضح الفاظ میں قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ (الحجر: 10)۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” خداوند نے کہا تھا کہ میں اپنے کلام کی آپ حفاظت کروں گا۔اب دیکھو کیا یہ سچ ہے یا نہیں کہ وہ تعلیم جو آنحضرت ﷺ نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ اس کی کلام کے پہنچائی تھی وہ برابر اس کی کلام میں محفوظ چلی آتی ہے“۔