خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 303

303 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم بھی بند ہو چکا تھا اور کھانا نہ مل سکا۔حضرت کے حضورصورتحال کا اظہار کیا گیا۔آپ نے فرمایا اس قد رگھبراہٹ اور تکلف کی کیا ضرورت ہے۔دستر خوان میں دیکھ لو کچھ بچا ہوا ہو گا ، وہی کافی ہے۔دستر خوان میں دیکھا تو اس میں روٹیوں کے چند ٹکڑے تھے۔آپ نے فرمایا یہی کافی ہیں اور ان میں سے ایک دو ٹکڑے لے کر کھالئے اور بس۔( سیرت حضرت مسیح موعود - مؤلفہ: حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 333-332) لکھتے ہیں بظاہر یہ واقعہ معمولی معلوم ہوگا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سادگی اور بے تکلفی کا ایک حیرت انگیز اخلاقی معجزہ نمایاں ہے۔کھانے کے لئے اس وقت نئے سرے انتظام ہوسکتا تھا اور اس میں سب کو خوشی ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ساری رات بیٹھ کر بھی پکانا پڑتا تو اس میں ایسی کیا بات تھی خوشی محسوس کرتے۔مگر آپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ بے وقت تکلیف دی جاوے اور نہ اس بات کی پرواہ کی کہ پُر تکلف کھانا آپ کے لئے نہیں آیا اور نہ اس غفلت اور بے پرواہی پر کسی سے جواب طلب کیا اور نہ خفگی کا اظہار کیا۔بلکہ نہایت خوشی اور کشادہ پیشانی سے دوسروں کے لئے گھبراہٹ کو دُور کر دیا۔پس اگر کسی بھول چوک یا ہنگامی حالت کی وجہ سے کسی کی مہمان نوازی میں کمی رہ بھی جائے تو کسی قسم کا غصہ کرنے کی بجائے ہمیشہ یہ مدنظر رکھیں کہ ہمارے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے؟ سینکڑوں یا ہزاروں میل کا سفر کر کے آنے کے باوجود اگر اس مقصد کو پیش نظر نہیں رکھتے ، اپنی روحانی، اخلاقی اور علمی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں کرتے تو یہاں جلسہ پر آنے کے مقصد کو پورا کرنے والے نہیں ہیں۔گزشتہ دورہ میں جب میں نے افریقہ کا دورہ کیا ہے، ہمیں نے اس کا اپنے خطبہ میں ذکر بھی کیا تھا کہ بین سے آئے ہوئے لوگوں کو ، آئیوری کوسٹ سے آئے ہوئے بعض لوگوں کو بعض وجوہات کی وجہ سے ایک وقت کھانا نہیں مل سکا۔لیکن جب ان سے کہا گیا اور معذرت کی گئی۔ان کا انتظام نئے سرے سے ہو گیا تو انہوں نے کہا اس معذرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ہم جس مقصد کے لئے آئے ہیں وہ ہمارا مقصد پورا ہو گیا ہے اور جلسہ پر ہم شامل ہو گئے ہیں اور خلیفہ وقت کی موجودگی میں جلسہ ہوا اس میں شامل ہو گئے ہیں۔تو یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم کہتے ہیں کہ افریقہ میں نئے آنے والے۔نئے آنے والے ایمان میں ترقی کرنے والے بنتے چلے جارہے ہیں۔پھر چھوٹی چھوٹی باتوں کا شکوہ بسا اوقات عورتوں کی طرف سے زیادہ ہوتا ہے اس لئے تمام مہمان یا درکھیں کہ چاہے مرد ہوں یا عورتیں۔اگر میز بانوں کی طرف کی ذمہ داریاں اور فرائض ہیں تو مہمانوں کی بھی ذمہ داریاں ہیں اور فرائض ہیں۔مہمان صرف حقوق نہیں رکھتا جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے تو مہمان کی مہمان نوازی کا حق تین دن کے بعد ختم کر دیا۔اس کے بعد تو میز بان کا احسان ہے جو وہ مہمان پر کرتا ہے۔( سنن ابوداؤ د کتاب الاطعمة باب ما جاء فی الضیافتہ حدیث نمبر 3749-3748)