خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 298

298 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم اور اپنے مہمانوں کو بھی اس کی پابندی کروائیں۔اگر نمازوں اور عبادت کی طرف پوری توجہ نہیں تو پھر اس جلسہ کے بہت بڑے مقصد کو پورا کرنے والے نہیں بن رہے ہوں گے۔کوئی تقریر فائدہ نہیں دے سکتی یا اس تقریر سے علمی حظ اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں اگر نمازوں کی طرف پورے شوق اور اس کا حق ادا کرتے ہوئے اس کو ادا کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔یہ خلافت جوبلی کا جلسہ ہے اس لئے بہت بڑی تعداد یہاں آئی ہے، مطلب یہ کہ خلافت جو بلی کے سال میں ہونے والا پہلا جلسہ ہے اور جیسا کہ میں نے کہا اس دفعہ اکثریت اس حوالے سے اور اس اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے جلسہ میں شامل ہو رہی ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کی نعمت کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ وہ مومنین کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا تو اس آیت میں یہ بتایا کہ وہ لوگ میری عبادت کریں گے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانے کی وجہ سے ان پر یہ انعام ہو گا کہ ان کو خلافت کی وجہ سے تمکنت عطا ہوگی اور پھر یہ بات انہیں مزید عبادت کی طرف توجہ دلانے والی ہوگی۔اور پھر اگلی آیت جو اس آیت استخلاف کے بعد آتی ہے، اس کے شروع میں ہی فرمایا وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ ( النور :57) کہ عبادت کے لئے بنیادی چیز اور شریک نہ ٹھہرانے کے لئے پہلا قدم ہی نماز کا قیام ہے۔اور قیام نماز کیا ہے؟ باجماعت نماز پڑھنا، سنوار کر نماز پڑھنا اور وقت پر نماز پڑھنا۔نماز کے مقابلے میں ہر دوسری چیز کو بیچ سمجھنا، کوئی حیثیت نہ دینا۔پس ان دنوں میں تمام آنے والے مہمان ، تمام جلسے میں شامل ہونے والے لوگ اپنی نمازوں کی طرف توجہ دیں اور پھر صرف ان دنوں میں نہیں بلکہ ان دنوں میں یہ دعا بھی خاص طور پر کریں اور کوشش کریں کہ ان دنوں کی نماز کی عادت ہمیشہ آپ کی زندگیوں کا حصہ بن جائے تا اس نعمت سے حصہ لیتے رہیں جو خلافت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔اور جو انفرادی طور پر بھی ہر احمدی کے لئے تمکنت کا باعث بنے گی اور جماعتی طور پر بھی تمکنت کا باعث بنے گی اگر ہماری عبادتیں زندہ رہیں۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت ان دنوں میں خاص طور پر کریں کہ یہی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے“۔فرمایا: ”ایمان کی جڑ بھی نماز ہی ہے“۔پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ امَنُوا مِنكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لانے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ کہ وہ اُن کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا۔تو ہر احمدی کو اس انعام سے فیض پانے کے لئے ایمان میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمان کی جڑ بھی نماز ہے اس جڑ کو پکڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلکہ اس کی جڑیں ہمیں اپنے دل میں