خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 212

212 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 2008 کیفیت میں دیکھ کر حیران تھے کہ یہ کون لوگ ہیں۔عموماً تو یہ تاثر ہے کہ مسلمان ڈسپلنڈ (Disceplend) نہیں ہوتے ، عجیب و غریب ان کی روایات ہیں۔یہی مغرب میں تاثر دیا گیا ہے۔لیکن اُس وقت ان کی حالت عجیب تھی اور یہ دیکھ رہے تھے کہ یہ تو عجیب قسم کے لوگ ہیں جو لگتے تو مسلمان ہیں لیکن ان میں ایک طرح کی تنظیم ہے۔ایشیائی اکثریت ہونے کے باوجودان میں مختلف قومیتوں کے لوگ بھی شامل ہیں اور ہر بچے، جوان، مرد، عورت اور مختلف قوموں کے لوگوں کا رخ جو ہے ایک طرف ہے۔خلافت سے محبت اور عقیدت جو اُن کے دلوں میں ہے اس کا اظہار ان کے چہروں سے بھی ظاہر و عیاں ہے بلکہ جسم کے ہر عضو سے ہو رہا ہے۔Excel سنٹر کی ایک سیکیورٹی خاتون کارکن جو وہاں تھیں، انہوں نے ہماری خواتین کو کہا کہ یہ ایسا نظارہ ہے جو میرے لئے بالکل نیا ہے، بالکل ایک نیا تجربہ ہے اور اس کو دیکھ کر آج مجھے پتہ چلا کہ اسلام کیا ہے۔میں تو اس نظارے کو دیکھ کر ہی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔بہر حال ان لوگوں میں تو عارضی کیفیت فوری ردعمل کے طور پیدا ہوتی ہے، اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں لیکن دعا ہے کہ اس خاتون اور اس جیسے بہت سوں کے دلوں میں یہ نظارہ پاک تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ہمارا مقصد اور مدعا تو یہی ہے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے اور آنحضرت مو کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔چاہے جس ڈھب سے بھی کوئی سمجھے یا کسی بات سے بھی کوئی سمجھے۔پس اس خلافت جو بلی کے جلسہ میں جس میں اپنوں اور غیروں نے وحدت کی ایک نئی شان دیکھی ہے یہ آج صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا خاصہ ہے۔آج اس وحدت کی وجہ سے عافیت کے حصار میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق کوئی جماعت ہے تو وہ صرف اور صرف مسیح محمدی کی جماعت ہے۔باقی سب انتشار کا شکار ہیں اور رہیں گے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر نہیں کریں گے۔جب تک کہ وہ آنحضرت اکے اس ارشاد کو نہیں مانیں گے کہ جب میر اسیح و مہدی ظاہر ہو تو اس کو میر اسلام پہنچاؤ۔مسلمانوں کی حالت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔غیر مذاہب کی خدا تعالیٰ سے دُوری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ شیطان کی گود میں جا پڑے ہیں۔اپنے پیدا کرنے والے کو بھول چکے ہیں۔اس مقصد کو بھول چکے ہیں جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔بلکہ اب تو اس کا فہم و ادراک بھی ان کو نہیں رہا کہ ان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے۔پس آج اگر کوئی جماعت ہے تو یہ سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہے جو اس مقصد کو جانتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرتی ہے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہی ہے جس نے اس عُروة وتقی کو پکڑا ہوا ہے جس سے ان کے صحیح راستوں کا تعین ہوتارہتا ہے۔اس مضبوط کڑے کو پکڑا ہوا ہے جس