خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 75
خطبات مسرور جلد ششم 75 خطبہ جمعہ فرمود ه 22 فروری 2008 دی اس سے جو حقائق سامنے آئے ، اس سے قابل فکر صورتحال کی تصویر ابھری ہے۔یو کے یا امریکہ کے ذکر سے یہ نہ سمجھیں کہ باقی جو دوسرے ملک ہیں وہاں مکمل طور پر اس پر عمل ہو رہا ہے اور بڑا اعلیٰ معیار ہے۔وہ اعلیٰ معیار جو ہمارا مطمح نظر ہیں اور ہونے چاہئیں وہ ابھی کسی جگہ کی رپورٹ میں بھی نظر نہیں آتے۔اس سلسلے میں اور کوشش کی ضرورت ہے۔بعض عہدیداران آنکھیں بند کر کے جتنی بھی رپورٹ آتی ہے اس پر خوش فہمی کا اظہار کرتے ہیں۔نماز ایک ایسی چیز ہے، وہ ایسی بنیادی بات ہے جس پہ ہمیں کسی بھی قسم کی خوش فہمی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہر احمدی ، ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتا ہے، سو فیصد اس بات پر قائم ہو کہ وہ نمازوں کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔بہر حال ان وجوہات کی وجہ سے میں نے مناسب سمجھا کہ آج پھر آیات اور احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں نمازوں کے بارے میں توجہ دلاؤں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ ایک اہم اور بنیادی رکن ہے جس پر ہر احمدی کو سو فیصد عمل کرنا چاہئے ورنہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہمارے ایمان کی عمارتوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔آج جب ہم خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر شکر کے جذبات سے لبریز ہیں اور خوشی منا رہے ہیں، دین کے اس سب سے اہم رکن کی طرف خاص طور پر ہر احمدی کی توجہ ہونی چاہئے کیونکہ خلافت کا وعدہ ان ایمان والوں کے ساتھ ہے جو نمازوں کے قیام کی طرف توجہ دینے والے ہیں۔پس اگر حقیقی رنگ میں خلافت کے انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنا ہے تا کہ اس انعام سے ہمیشہ فیض پاتے رہیں تو اپنی نمازوں کے قیام کی طرف خاص توجہ دینا ہر احمدی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔پس دوبارہ میں کہتا ہوں کہ ہر احمدی اپنے جائزے لے کہ کیا ہم اپنی نمازوں کی حفاظت اس کا حق ادا کرتے ہوئے کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنی نمازوں کے وہ معیار حاصل کر لئے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے مقابلے پر تم جس کو بھی کھڑا کرو گے کہ وہ تمہاری ضروریات پوری کر دے، وہ پوری نہیں کر سکتا۔یہ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ مشرکوں کو کہتا ہے کہ تمہارے معبود تو نہ سن سکتے ہیں نہ تمہاری ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک سے بھی انکار کر دیں گے۔اگر کوئی مالک گل ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور بندے اس کے محتاج ہیں۔یہ ساری باتیں بندوں کو اس طرح توجہ دلانے والی ہونی چاہئیں کہ اس خدا کے آگے جھکیں جو مالک کائنات ہے۔اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہوشیار کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں اور اس ڈر کی وجہ سے نماز قائم کرتے ہیں اور پھر ان نمازوں کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اپنے نفسوں کو پاک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کسی کو بھی یہ