خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 70

خطبات مسرور جلد ششم 70 خطبه جمعه فرموده 15 فروری 2008 یہاں تک کہ نماز کی صبح صادق ظاہر ہوئی۔اور اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کے حالات کا وقت آ گیا تو روحانی نماز فجر کا وقت آ گیا اور فجر کی نماز اس کی عکسی تصویر ہے۔( رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 167-166) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو اقتباس میں نے پڑھا اس میں انسان کی دنیاوی حالت کو سامنے رکھتے ہوئے مثال دے کر آپ نے سمجھایا کہ دُلُوک کے مختلف معانی ہیں۔دُلُوک کے تین معانی لغت میں ملتے ہیں۔بعض لغات ان تینوں کو تسلیم بھی کرتی ہیں۔اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ سورج کا زوال۔دوسرے اس کے معنی یہ ہیں جب سورج پر زردی آنی شروع ہوتی ہے۔اس وقت کو بھی ڈلوک کہتے ہیں۔اور اس کے تیسرے معنی سورج کے غروب ہونے کے بھی ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو سامنے رکھتے ہوئے بیان فرمایا ہے کہ دلوک یعنی سورج کا سایہ بڑھنے سے شروع کر کے نماز کے اوقات رکھے گئے ہیں۔اور اس میں کیا حکمت ہے اور کیا وجہ ہے؟ پہلی بات یہ بیان فرمائی کہ اگر دنیاوی مثال سے اس کو دیکھا جائے تو ایک انسان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو اس کی کیسی عاجزی اور پریشانی کی حالت ہوتی ہے مثلاً کسی کے خلاف کوئی مقدمہ ہو جائے تو اسے بہت سی فکریں دامنگیر ہو جاتی ہیں۔وکیل کرنے کی فکر ہوتی ہے پھر پتہ نہیں لگتا کہ وکیل ملے یا نہ ملے۔اگر ملے تو کیا ہو؟ مقدمہ بھی صحیح طریقے پر لڑ سکے یا نہ لڑ سکے۔پھر فیصلہ کیا ہو۔تو اس کی ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔عجیب مایوسی کی حالت پیدا ہوتی ہے اور اس میں پھر وہ بے چین ہو کر اس حالت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ہاتھ پیر مارتا ہے۔جو جو خیالات آتے ہیں ان کے حل کی تلاش کی کوشش کرتا ہے۔تو سورج کے زوال کے ساتھ اس دنیاوی مثال کے مقابلے پر ظہر کی نماز ہے جس میں ایک انسان کو اپنی روحانی حالت پر غور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا چاہئے اور اس سے مدد مانگنی چاہئے۔پھر دنیاوی مقدمات میں وارنٹ آنے کے بعد اسے کمرہ عدالت میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔کورٹ کے سامنے پیش ہوتا ہے جہاں حج اس کا مقدمہ سنتا ہے، جہاں اسے سوال جواب ہوتے ہیں، جرح ہوتی ہے، اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ایک انسان کوشش کرتا ہے یا معافی مانگ رہا ہوتا ہے۔پس عصر کی نماز کی یہ حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرے کہ اللہ تعالیٰ غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں سے بچائے اور معاف فرمائے۔سارے دن میں جو شام تک غلطیاں ہوئی ہیں ان سے معاف فرمائے۔روحانی حالت کو قائم رکھے۔پھر مثال دی کہ عدالت میں فرد جرم لگ گئی ہے۔عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ کر دیا ہے۔تو اس وقت میں یہ خیال آ جاتا ہے کہ جب خلاف فیصلہ کر دیا تو اب سزا ملے گی۔بے چینی اور مایوسی بڑھ جاتی ہے۔پس مغرب کی نماز اس کے مقابلے پر رکھی ہے کہ ایک مومن جب اپنے دن کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا۔اپنے اعمال کو دیکھتا ہے تو کچھ نہیں لگتے۔پھر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے اور اس کی مغفرت اور پناہ کا طلبگار ہوتا ہے۔تو یہ مغرب کی نماز ہے۔پھر فرمایا آخر فرد جرم لگنے کے بعد عدالت ثابت کر دیتی ہے کہ ہاں تم ملزم ہو تو پولیس کے حوالے کر دیتی ہے۔سزا شروع ہو جاتی ہے تو اس کے مقابلے پر عشاء کا وقت ہے۔رات اندھیری ہے۔اس کو اب کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا۔کال کوٹھڑی میں ایک ملزم ڈال دیا جاتا ہے۔تو سارے دن کے اعمال ایک مومن کی نظروں کے سامنے گھومنے چاہئیں۔اس کی ایسی حالت میں جو عشاء کی نماز پڑھ رہا ہے۔جس طرح جیل کی کوٹھڑی میں بند ایک مجرم بے چین ہو ہو کر اپنی رہائی اور رحم مانگ رہا ہوتا ہے۔رات کو ایک مؤمن کو بھی یہ احساس دلانا چاہئے کہ یہ جو راتیں ظاہری طور پر آ رہی ہیں۔کہیں ایسی راتیں میری روحانی زندگی پر نہ