خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 71

خطبات مسرور جلد ششم 71 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 2008 آجائیں۔کہیں یہ راتیں لبی نہ ہو جائیں۔میرے پنہانی گناہ اور ظلم کہیں مجھے شیطان کی گود میں مستقل نہ پھینک دیں۔وہ بے چین ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور گریہ وزاری کرتا ہے کہ اے اللہ ! اس ظاہری اندھیرے کی طرح میری روحانی زندگی بھی کہیں مستقل اندھیروں کی نظر نہ ہو جائے۔مجھے اپنی پناہ میں لے لے اور مجھ پر ہمیشہ وہ سورج طلوع رکھ جو میری روحانی زندگی پر نہ کبھی زوال آنے دے، نہ اندھیروں میں بھٹکوں۔پس اس کے لئے عشاء کی نماز ہے۔اس میں وہ یہ دعائیں کرتا ہے اور آخر کو جس طرح قیدی آزاد ہو کر باہر کی دنیا کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ایک مومن فجر کی نماز کو دیکھ کر اسی طرح خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ اے اللہ ! جس طرح یہ دن چڑھ رہا ہے میری روحانی زندگی پر بھی ہمیشہ دن چڑھارہے اور کبھی اندھیروں میں نہ بھٹکوں۔پس نماز کے پانچ اوقات روحانی حالت کا جائزہ ایک مومن کے سامنے رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کی حالت کا وقت آ گیا تو اس سے مراد یہ ہے کہ ایک مومن کو فجر کی نماز میں سست نہیں ہونا چاہئے۔یہ یسر اور آسانی پیدا کرنے کا وقت ہے۔پس اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے بستروں کو اپنی آرام کی جگہ نہ سمجھو۔اب اگر آرام دیکھنا ہے، اپنی روحانی حالت سنوارنی ہے، اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنا ہے تو فجر کی نماز کی بھی حفاظت کرو اور جب ہر دن کا سفر اسی سوچ کے ساتھ شروع ہوگا اور اسی سوچ پر ختم ہوگا تو پھر وہ حالت ہوگی جب ہر صبح یہ گواہی دے گی کہ تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر شام یہ گواہی دے گی کہ ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔اور یہی حالت ہے جو ایک مومن میں انقلاب لانے کا باعث بنتی ہے۔پس اس بات کو ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ نمازیں روحانی حالت کے سنوارنے کے لئے ایک بنیادی چیز ہیں جس کے بغیر انسان کا مقصد پیدائش پورا نہیں ہوتا۔پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنی نمازوں کو وقت پر ادا کرے اور اس کے لئے بھر پور کوشش کرے کیونکہ ایک مومن پر ان کا وقت پر ادا کرنا بھی فرض ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتَاباً مَوْقُوْتًا (النساء:104) كہ يقيناً نماز مومنوں پر ایک وقت مقررہ کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس اہم رکن کی ادائیگی کا صحیح حق ادا کرنے والے ہوں۔آنحضرت ﷺ کے جس کام کو جاری کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اس کو پورا کرنے میں آپ کا ہاتھ بٹانے والے ہوں۔اور ہم آپ کے مددگار اور ہاتھ بٹانے والے اس وقت تک نہیں بن سکتے جب تک ہم اپنا تزکیہ کرنے والے نہیں ہوں گے۔اور تزکیہ نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے اور انہیں وقت پر ادا کرنے والے نہیں بنیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ بڑے درد کے ساتھ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو۔اگر سارا گھر غارت ہوتا ہوتو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے۔نماز ہرگز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں ہے۔جو اسے منحوس کہتے ہیں ان کے اندر خود زہر ہے۔جیسے بیمار کو شرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کو نماز کا مزا نہیں