خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 54
54 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس اگر جھوٹے ہیں تو یہ لوگ ہیں ، ہم نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے اس تعلیم کی حفاظت کے یہ سامان پیدا فرمائے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اس مزگی سے کئے گئے وعدے کے مطابق مسیح موعود اور مہدی موعود کو بھیجا جو خاتم الخلفاء کہلائے۔قرآن کریم میں اس کا یوں ذکر آتا ہے۔سورۃ جمعہ کی آیات ہیں، هُوَ الَّذِي بَعَثْ فِي الَّا مِّيِّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمُ الله وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ۔وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ۔وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ (الجمعة : 4-3) کہ وہی ہے جس نے انھی لوگوں میں انہیں میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔اور انہیں میں سے دوسروں کی طرف بھی اسے مبعوث کیا ہے جو بھی ان سے ملے نہیں۔وہ کامل غلبے والا اور صاحب حکمت ہے۔ان آیات میں سے جو پہلی آیت ہے اس میں امی لوگوں میں سے عظیم رسول کے مبعوث ہونے کی خبر ہے۔یہاں پھر جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کے اعلان کا اعادہ کیا گیا ہے اور واضح اعلان آخر میں ہے کہ اس سے پہلے وہ لوگ کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔یہ کھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہونے کے الفاظ اس حوالے سے سورۃ آل عمران کی آیت میں بھی بیان کئے گئے ہیں۔سورۃ آل عمران میں ان خصوصیات کا ذکر کرنے سے پہلے یعنی جو نبی نے آ کر چار باتوں پر عمل کرنا تھا یا کروانا تھا، یہ ذکر ہے کہ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِين یقینا اللہ نے مومنوں پر احسان کیا ہے جو ان میں ایک رسول بنا کر بھیجا ہے۔پس اس زمانے میں جب بحر و بر میں فساد برپا تھا اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں پر ایک احسان ہوا کہ ان میں ایک رسول مبعوث فرمایا جس نے انہیں آیات سنائیں، پاک گیا تعلیم کتاب اور حکمت دی۔اور انہیں عربوں نے جو جاہل کہلاتے تھے ایک انقلاب بر پا کر دیا۔سورۃ جمعہ میں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس خدا نے ان ان پڑھ لوگوں پر احسان کرتے ہوئے رسول بھیجا کہ انہیں پاک کرنے اور اللہ کا قرب دلانے کا باعث بنا، کیا اس عظیم رسول کا زمانہ ختم ہو گیا ہے کہ پھر ایک ہزار سال سے وہی اندھیرا زمانہ چلتا چلا جائے۔کیا وہ زمانہ چند سو سالوں کے بعد دوبارہ لوٹ کر آ گیا؟ سوائے چند ایک چھوٹے چھوٹے گروہوں کے جن کے دائرے محدود ہیں اس ایک ہزار سال میں جو پچھلا اندھیرا دور گزرا ہے کہیں روشنی نظر نہیں آتی رہی۔تو اللہ تعالیٰ جو احسان کرنے والا ہے اس نے ان لوگوں پر تو احسان کر دیا جو مشرکین تھے اور جو امت میں سے تھے، جو دعائیں مانگ رہے تھے کہ امت میں کوئی اصلاح کرنے والا آئے ، ان پر اللہ تعالیٰ نے احسان نہیں کیا۔تو یہ تو کوئی عظمت نہ ہوئی۔یہ تو قیامت تک کے لئے تعلیم قائم رکھنے کا وعدہ پورا کرنا نہ ہوا۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی ایسا سمجھتاہے تواللہ تعالیٰ پر باطنی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے جس کی ہر چیز جو بھی زمین و آسمان میں ہے تسبیح کرتی ہے اور اس کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔وہ عزیز ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔تو کیا عزیز خدا اور حکیم خدا سے یہ توقع کرتے ہو کہ وہ اب دنیا کو بھٹکنے دے گا؟ کیا یہ حکمت ہے کہ اس تعلیم کو سنبھالا نہ جائے جو دنیا کی نجات کے لئے آخری تعلیم ہے؟ خدا تعالیٰ کے بارے میں یہ سوچ تو بڑی محدود سوچ ہے اور بدظنی ہے۔پس اے وہ لوگو! جو اپنے آپ کو محمد رسول اللہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو! اس عظیم رسول کی طرف منسوب کرتے ہو جس کی تعلیم تا قیامت دلوں کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔اس تعلیم کی روشنی دکھانے کے لئے محدود پیمانے پر نہیں جیسا کہ سابقہ صدیوں میں آتے رہے بلکہ وسیع پیمانے پر پاک کرنے کے لئے اور کمزور دلوں اور دنیا داروں اور فلسفیوں میں بھی پاکیزگی اور حکمت کے بیج ڈالنے کے لئے آخرین میں پھر یہ نبی مبعوث ہو گا۔جو اپنے اس جسم کے