خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 55

55 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم ساتھ نہیں بلکہ بروزی رنگ میں مبعوث ہوگا اور یہ اس خدا کا فیصلہ ہے جو عز یز اور حکیم ہے۔اور اس خدا کی طاقتوں کو محدود نہ سمجھو۔اس کے فیصلوں کو بغیر حکمت کے نہ سمجھو۔پس جس طرح اس عظیم نبی نے ایک پاک جماعت کا قیام کیا تھا اور بگڑے ہوؤں کو خدا سے ملایا تھا اس نبی کا غلام بھی اس بگڑے زمانے میں خدا سے ملانے کا کام کرے گا۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ وہ ہو گا کون جو آخرین میں مبعوث ہوگا ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو ان کی نسل میں سے ایک شخص اسے زمین پر واپس لے آئے گا۔( بخاری کتاب التفسير سورة الجمعة باب قولہ و آخرین منهم لما یلحقوا بهم حدیث : 4897) آنحضرت ﷺ کی ایک اور حدیث ہے کہ وہ زمانہ آئے گا کہ قرآن کے الفاظ کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہے گا اور اسلام کے نام کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔پس ہر غور کرنے والا ذہن اور ہر دیکھنے والی آنکھ یہ دیکھتی ہے اور اظہار کرتی ہے کہ آجکل یہی حالات ہیں۔نپس اللہ تعالیٰ نے اس عظیم رسول کو بھیج کر جو دین قائم کیا اور جس نے تا قیامت رہنا ہے اس کے اس شان و شوکت سے قائم رہنے کے لئے آنحضرت لہ کے عاشق صادق کو بھیجا ہے۔پس ہم احمدی کہلانے والوں کی اب دوہری ذمہ داری ہے کہ ایک تو اپنے پاک ہونے اور اس کتاب پر عمل کرنے کی طرف مستقل توجہ دیں۔دوسرے اس پیغام کو ہر شخص تک پہنچانے کے لئے ایک خاص جوش دکھا ئیں تا کہ کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ ہم تک تو یہ پیغام نہیں پہنچا۔کیونکہ آج سوائے احمدی کے کوئی نہیں جس کے سپر دامت مسلمہ کے سنبھالنے کا کام کیا گیا ہے۔بڑے بڑے اسلام کے نام نہاد چیمپین تو نظر آئیں گے اور بزعم خویش اپنے آپ کو سب کچھ سمجھنے والے بھی ہوں گے۔ہر گروہ اور ہر فرقہ اصلاح کا دعوی کر رہا ہے لیکن ایمان سے عاری ہیں اس لئے ہر طرف یہی شور ہے کہ مسلمانوں کو سنبھالو۔اور اس گروہ بندی اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے انکار کی وجہ سے یہ علیحدہ علیحدہ گروہ بنے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے انکار کی وجہ سے دلوں کی پاکیز گی ختم ہورہی ہے۔تعلیم و حکمت سے عاری ہو رہے ہیں اور دشمن کے پنجے میں جکڑے چلے جا رہے ہیں۔کبھی کبھی یہ آواز اٹھتی ہے کہ خلافت ہونی چاہئے لیکن یہ سب جس وجہ سے ہو رہا ہے وہ نہیں سوچتے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خداوہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانی علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے یعنی خدا اور اس کی صراط مستقیم سے بہت دور جا پڑے تھے تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول امی بھیجا اور اس رسول نے ان کے نفسوں کو پاک کیا۔اور علم الکتاب اور حکمت سے ان کو مملو کیا یعنی نشانوں اور معجزات سے مرتبہ یقین کامل تک پہنچایا اور خدا شناسی کے نور سے ان کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہوں گے تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا۔یہاں تک کہ ان کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانِ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّالَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فارس یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اٹھ گیا ہو گا۔تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اس کو واپس لائے گا۔یہ