خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 525

خطبات مسرور جلد ششم 525 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2008 قرآن کریم جیسی کامل کتاب وحی الہی کے ذریعہ نازل ہوئی۔جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی شفاء ہے۔روحانی شفاء تو ہے ہی جسمانی شفاء بھی ہے۔ایک دفعہ کچھ صحابہ کسی جگہ گئے وہاں کے قبیلے کا سردار بیمار ہو گیا یا اس کو سانپ نے ڈس لیا تو ایک صحابی کو پتہ لگا اس پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔آنحضرت ﷺ کو آ کے بتایا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم نے کس طرح دم کیا ؟ انہوں نے عرض کیا کی یا رسول اللہ ! سورۃ فاتحہ کا دم کیا۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک دم کیا۔تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ اس میں شفاء ہے؟۔( بخاری کتاب الاجارة - باب ما یوتی فی الرقیة علی احیاء العرب بفاتحۃ الکتاب حدیث 2276) بلکہ وہاں یہ بھی واقعہ ہوا کہ اس سردار نے جب صحت پائی تو اس صحابی کی خدمت میں بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا جو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا کہ میں معاوضہ نہیں لیتا۔آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو تمہیں خود دیتا ہے اسے لینے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن اس صحابی نے کیوں انکار کیا اس لئے کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ قرآن کریم کو کمائی کا ذریعہ نہ بناؤ۔آج کل کے پیروں فقیروں کی طرح جو تعویذ گنڈے کرتے اور پیسے کماتے ہیں۔ان کے لئے یہ سبق ہے۔بہر حال اللہ کا بڑا احسان ہے کہ احمدی اس سے محفوظ ہیں۔پس کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم میں روحانیت کے ساتھ ساتھ جسمانی عوارض سے شفا کا بھی ذکر ہے، اور اس روحانی بیماریوں سے شفاء کے بارے میں قرآن کریم میں مختلف آیات میں ذکر آیا ہے۔اب میں کچھ آیات پیش کروں گا۔لیکن آیات پیش کرنے سے پہلے اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی صورت میں آنحضرت ﷺ پر کامل کتاب نازل فرمائی۔لیکن اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کامل کتاب کے اتارنے کے ساتھ اب وحی کے دروازے بھی بند کر دیئے ہیں۔گو شریعت کامل ہو گئی اور دین مکمل ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح پہلے انبیاء بھیجے اور ان پر وحی ہوتی تھی ، باوجود اس کے کہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آتے تھے، اسی طرح اب بھی ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا کلام اب بھی جاری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال دی ہے کہ توریت نازل ہوئی لیکن اس کے بعد بہت سے انبیاء بھیجے تا کہ اس کی تائید اور تصدیق کریں اور زمانے کے گزرنے سے جو لوگ عمل چھوڑ دیتے ہیں ان کی طرف ان کو توجہ دلاتے رہیں اور اس دین کی پیروی کرتے ہوئے جو اُن سے پہلے کے انبیاء پر ہوا، یا کسی شرعی نبی پر اترا تھا۔اللہ تعالیٰ ان انبیاء سے بھی ہم کلام ہوتا رہا جو بعد میں آنے والے تھے۔اور اس سے لوگوں کے دلوں میں ایمان کی مضبوطی پیدا ہوتی رہی۔تو فرمایا کہ اسی طرح قرآن کریم کے نزول کے بعد بھی وحی کا دروازہ بند نہیں ہوا۔بلکہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مثال بھی دی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ