خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 526
خطبات مسرور جلد ششم 526 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2008 والسلام سے اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوتارہا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم کی تعلیم کی تائید میں بھیجا۔اس کو پھیلانے کے لئے بھیجا تا کہ اللہ تعالیٰ کے براہ راست مکالمہ و مکاشفہ کے حوالے سے قرآنی تعلیم کو مومنوں کے دلوں میں بھی صحیح رنگ میں راسخ کریں اور غیروں کو اس حوالے سے تبلیغ کریں اور دعوت دیں تا کہ اللہ تعالیٰ سے کلام کرنا اور وحی صرف پرانے قصے نہ رہیں بلکہ جاری عمل ہوتے ہوئے قرآن کریم کے تمام نقائص سے پاک تعلیم پر ایمان، آنحضرت ﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین اور ایمان میں ہمیشہ ترقی ہوتی رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے ،مسجد داور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں“۔پس ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کونکھار کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔وحی والہام کا راستہ کبھی اللہ تعالیٰ نے بند نہیں فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعد آپ کے مشن کو اللہ تعالیٰ کی خاص را ہنمائی میں جاری رکھنا خلافت کا کام ہے۔اور قرآن کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا ہمارا سب سے بڑا مشن ہے تا کہ دنیا کامل اور مکمل علاج سے فیض پاتے ہوئے اپنی روحانی شفاء کا بھی انتظام کر سکے۔آج جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اور آپ کی قائم کردہ جماعت پر لوگ اعتراض کرتے ہیں ، وہ اپنی حالت دیکھ کر خود ہی فیصلہ کر لیں کہ کیا علماء اور مفسرین کے ہونے کے باوجود قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ وہ تمہارے سینوں کی کدورتیں دُور کر کے انہیں شفاء دیتا ہے۔مسلمانوں کو کوئی فیض پہنچا رہا ہے؟ مجموعی طور پر مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ اس بات کی نفی کر رہی ہے۔باوجود اس کے قرآن کریم موجود ہے اُن کے زعم میں ان کے علماء اور مفسرین موجود ہیں، لیکن وہ فیض انہیں حاصل نہیں ہورہا۔تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نعوذ باللہ قرآن کریم کی تعلیم میں کوئی کمی ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔اگر جھوٹ ہے تو اس نام نہاد دعوی کرنے والوں کے عملوں میں ہے جو کہتے ہیں کہ ہمیں کسی مسیح اور مہدی کی ضرورت نہیں ہے۔جو اپنے عمل سے آنحضرت ﷺ کے حکم کا انکار کر رہے ہیں۔قرآن کریم تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج بھی مومنین کے لئے شفاء ہے۔اللہ تعالیٰ ہم احمدیوں کو ہمیشہ اس انعام کی قدر کرنے والا بنائے رکھے اب جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اس بارہ میں قرآ ن کریم کی کچھ آیات پیش کروں گا۔سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا ) بنى اسرائیل : 83) اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفاء ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا اور کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔