خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 245
245 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمود و 20 جون 2008 مخدوم بننے کی نشانی ہے۔اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الہی ہونے کی علامت ہے۔اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں۔اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 362۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہم سے خواہشات۔فرمایا نرم دل ہو جاؤ۔جب نرم دلی ہوگی تو وہ تمام اخلاق بھی پیدا ہوں گے جن کا آپ نے ذکر فرمایا۔اُن اخلاق کا ذکر فرمایا جن کا ایک مومن کے اندر ہونا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بعض ایسے نیک لوگ ہیں جو اپنی انانیت اور خود پسندی کو مارنا، بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا، غصے کو دبالینا، نمازوں میں ایک دوسرے کے لئے دعا کرنا،اپنا وطیرہ بناتے ہیں اور یہ ہونا چاہئے۔لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے برخلاف عمل کرتے ہیں۔اب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن دوسرے بھائی کے لئے نماز میں دعا بھی کر رہا ہو، اگر کوئی اس کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے بخش بھی دے اور ان دعاؤں اور بخشش کے باوجود اس کے دل میں نفرت بھی ہو۔یہ دونوں چیزیں اکٹھی تو نہیں ہو سکتیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک دوسرے کو مکمتر بھی سمجھ رہے ہوں اور پھر یہ بھی کہیں کہ دل میں عزت بھی ہے۔اس ضمن میں میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں جو میرے سامنے ان دنوں میں آئی ہے، پہلے بھی آتی رہی ہیں لیکن بہر حال یہاں آنے کے بعد موقع تھا اور اس کے بعد کیونکہ دوبارہ موقع نہیں ملنا اس لئے جلسے کے دنوں میں ہی یہ باتیں کروں گا۔یہاں امریکہ میں تین قسم کے احمدی ہیں۔ایک پاکستانی یا ہندوستانی احمدی اور پھر ان میں آگے دو قسم کے نئے اور پرانے احمدی بھی ہیں۔پھر مقامی افریقن امریکن احمدی ہیں جن کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ اخلاص و وفا میں بھی یہ لوگ بڑھ رہے ہیں۔اُن میں سے کئی ایسے ہیں جو جماعتی نظام کا بہت فعال حصہ ہیں اور مختلف عہدوں پر خدمات پر معمور ہیں۔اور تیسرے سفید فام امریکن بھی ہیں، ان کی تعداد گو بہت تھوڑی ہے لیکن یہ بھی نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرنے والوں میں سے ہیں۔لیکن جو بات میں کہنی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی نژاد احمدی اور افریقن امریکن احمدیوں میں جو ایک اکائی نظر آنی چاہئے وہ ہر سطح پر مجھے نظر نہیں آتی۔مجھ تک دونوں طرف سے بعض شکوے پہنچتے رہتے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس کے فقرات پر غور کریں تو آپ کی جماعت میں شامل ہو کر یہ کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ پاکستانی نژاد احمدی اپنوں اور مقامی احمدیوں میں کوئی فرق رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر وہ عاجزانہ راہیں اختیار کرنی ہوں گی جو آپ نے اختیار کیں۔اور جن کو اللہ تعالیٰ نے سراہتے ہوئے، پسند فرماتے ہوئے آپ کو الہاماً فرمایا کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں۔اور کیونکہ پاکستانی احمدی پرانے ہیں ، اس لئے ان کا فرض بنتا ہے کہ