خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 203

203 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 2008 یہ الہام 1883 ء کا ہے۔یعنی جب آپ نے پہلی بیعت لی ہے اس سے تقریباً چھ سال پہلے کا۔اس میں زمانے کی حالت کا نقشہ بیان ہوتا ہے کہ اپنی اصلاح کے لئے خدا کی طرف توجہ کرو۔اُس زمانے میں بھی جو دین کے ہمدرد تھے وہ اس بات سے فکرمند تھے کہ اسلام کی کیا حالت ہو رہی ہے۔تو اس جری اللہ کے ذریعہ سے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے جسے اللہ تعالیٰ نے زمانے کی اصلاح کے لئے بھیجنا تھا یہ پیغام دیا کہ خالص ہو کر اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو۔خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں آچکی ہے۔جس مصلح کی پیشگوئی تھی جس مسیح و مہدی کے آنے کی پیشگوئی تھی وہ دعوی کرنے والا ہے اس کے آنے پر کفر نہ کرنا۔آج بھی مسلمان فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں۔اس طرف توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی راہنمائی حاصل ہو۔آج مسلمانوں کی حالت اور زلزلوں اور آسمانی آفات پر صرف جو فکر ہے وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، اگر عملی حالتیں نہ بدلیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ خبر بھی اللہ تعالٰی نے دی تھی کہ الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا أَوْلَئِكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْم“۔جولوگ تو به کریں گے اور اپنی حالت کو درست کر لیں گے تب میں بھی ان کی طرف رجوع کروں گا اور میں تو اب اور رحیم ہوں۔( تذکرہ صفحہ 150-151 ایڈیشن چہارم۔مطبوعہ ربوہ ) پس یہ مخالفین احمدیت کے لئے بھی قابل غور ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔خدا تعالیٰ سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔جماعت احمدیہ کی تاریخ اور جماعت کی ترقی اب ان مخالفین کے لئے کافی ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور اب اس مخالفت سے باز آتے ہوئے اس مسیح و مہدی کے ہاتھ مضبوط کرنے کی اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے ہر فرد کو تو فیق دے تا کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحم کی چادر میں آتے ہوئے اپنی دنیاو آخرت سنوارنے والے بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو امت محمدیہ کی حالت کی ایسی فکر تھی کہ ہر وقت اس راہ میں لگے ہوئے تھے۔آنحضرت ﷺ کے نام کی عزت و حرمت قائم کرنا آپ کی زندگی کا مقصد تھا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک یہ دعا بھی الہاما آپ کو سکھائی رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّةَ مُحَمَّدٍ" کہ اے میرے رب امت محمدیہ کی اصلاح کر۔( تذکرہ صفحہ 37 ایڈیشن چہارم۔مطبوعہ ربوہ ) یقینا اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ جو آپ سے کیا، یہ دعا جو آپ کو سکھائی وہ اس لئے سکھائی کہ اس کی قبولیت ہو اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم مایوس نہیں کہ امت محمدیہ بھی تمام کی تمام یا اکثریت اس مسیح محمدی کے جھنڈے تلے جمع ہوگی۔قرائن بتا رہے ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انشاء اللہ تعالیٰ یہ ہونے والا ہے۔لیکن وہ علماء اور راہنما جو عوام الناس کی غلط راہنمائی کر رہے ہیں اُن کو فکر کرنی چاہئے کہ اگر وہ لوگ اپنی اصلاح نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آ سکتے ہیں۔ایک طرف تو خود کہتے ہیں کہ زمانہ مسیح کی آمد کا منتظر ہے بلکہ بے چین ہے۔لیکن جس کا دعویٰ ہے اسے نہ صرف خود قبول نہیں کر رہے بلکہ دوسروں کی غلط راہنمائی کر رہے ہیں، ان کو بھی ورغلاتے اور ڈراتے ہیں۔