خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 160

خطبات مسرور جلد ششم 160 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 2008 پھر سفر شروع کرنے اور اس کے اختتام پر صدقات کا بھی ذکر ملتا ہے۔آنحضرت ﷺ تو ہر وقت صدقہ و خیرات کرتے رہتے تھے لیکن اس حوالے سے جانوروں کی قربانی کا ذکر ملتا ہے۔جانور قربان کرتے تھے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم جب حج یا عمرے سے یا غزوہ سے واپسی پر کسی گھائی یا ٹیلے سے گزرتے تو تین دفعہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ پڑھتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔اس کے لئے بادشاہت ہے اسی کے لئے تمام حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ہم لوٹنے والے ہیں، تو بہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، سجدہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام گروہوں کو شکست دی۔( بخاری کتاب الجہاد والسیر باب التكبير اذاعلاشر فا حدیث نمبر 2995) اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے کئے گئے وعدے ہمیشہ سے ہماری زندگیوں میں بھی سچ کر دکھاتا رہے اور ہماری کوئی کمزوریاں ان کو دُور لے جانے والی نہ بنیں اور دنیا میں ہم جلد سے جلد آ نحضرت ﷺ کا جھنڈا لہراتا ہوا دیکھیں۔پھر آپ نے ایک یہ نصیحت فرمائی، حضرت خولہ بنت حکیم بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم میں سے کوئی کسی مقام پر پڑاؤ کرے تو یہ کہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے میں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی پناہ میں آتا ہوں۔تو اس جگہ سے کوچ کرنے کے وقت تک ( یعنی وہ جگہ چھوڑنے کے وقت تک ) کوئی بھی چیز اسے وہاں تکلیف نہیں پہنچائے گی۔( سنن الدار می کتاب الاستئذان باب ما یقول اذ انزل منزلا۔حدیث نمبر 2682) حضرت ابو ر ہر کا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین دعائیں ایسی ہیں جو قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد کی دعا اپنی اولاد کے لئے۔پس مسافروں کو سفر کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے بجائے اس کے کہ سارا وقت فضول باتوں میں ضائع کیا جائے ، دعاؤں کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے اور محض اور محض اپنے فضل سے ان دعاؤں کو قبول بھی فرمائے۔پھر آپ کی ایک دعا ایک روایت میں آتی ہے۔حضرت صہیب جو نبی کریم ﷺ کے صحابی تھے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم سے جب کسی ایسی بستی کو دیکھتے جس میں آپ کے جانے کا ارادہ ہو تو آپ یہ دعا کرتے اے اللہ ! سات آسمانوں اور جس پر ان کا سایہ ہے ان کے رب، سات زمینوں اور جو کچھ انہوں نے اٹھا رکھا ہے ان کے رب ، شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے رب ، ہواؤں اور جو کچھ وہ اڑاتی ہیں، ان کے رب ، ہم تجھ سے اس بستی اور اس کے رہنے والوں اور اس کی خیر اور بھلائی چاہتے ہیں اور اس کے شر سے