خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 80
خطبات مسرور جلد ششم 80 خطبه جمعه فرموده 22 فروری 2008 سے ان لوگوں سے علیحدہ کر دیا جن کی مسجد میں ہدایت سے خالی ہیں تو پھر ہمیں کس قدر شکر گزاری کے جذبات سے خالص ہو کر اس خدا کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے، تا کہ اس کے مزید انعامات کے وارث بنیں۔پس ہماری نمازیں با قاعدہ اور خالص خدا تعالیٰ کی خاطر ہوں گی تو ہم اس انداری صورت سے اپنے آپ کو بچانے والے ہوں گے۔بہت خوف کا مقام ہے۔ہم میں سے کسی ایک میں بھی کبھی ایسی سنتی نہ ہو جو اسے دین سے دور لے جائے ، خدا سے دور لے جائے۔پس خدا کے قرب کو پانے کے لئے خالص ہو کر اس کے بتائے ہوئے راستے پر ایک خاص فکر سے چلنے کی ضرورت ہے۔اپنی نمازوں کی ادائیگی میں ایک خاص فکر کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: مفہوم لا إِلهَ إِلَّا اللہ کے بعد نماز کی طرف توجہ کرو جس کی پابندی کے واسطے بار بار قرآن شریف میں تاکید کی گئی ہے۔لیکن ساتھ ہی اس کے یہ فرمایا گیا ہے کہ وَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون :5) وَيل ہے ان نمازیوں کے واسطے جو کہ نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔سو سمجھنا چاہئے کہ نماز ایک سوال ہے جو کہ انسان جدائی کے وقت در داور حرقت کے ساتھ اپنے خدا کے حضور کرتا ہے کہ اس کو لقاء اور وصال ہو کیونکہ جب تک خدا کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہو سکتا اور جب تک وہ خود وصال عطا نہ کرے کوئی وصال کو حاصل نہیں کرسکتا۔یعنی جب تک وہ خود کسی بندے سے نہ ملائے یا اپنے ملنے کے راستے نہ کھولے کوئی بندہ خدا تعالیٰ کو نہیں مل سکتا۔” طرح طرح کے طوق اور قسما قسم کے زنجیر انسان کے گردن میں پڑے ہوتے ہیں اور وہ بہتیرا چاہتا ہے کہ دور ہو جاویں پر وہ دور نہیں ہوتے۔باوجود اس خواہش کے کہ وہ پاک ہو جاوے، نفس لوامہ کی لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔گناہوں سے پاک کرنا خدا کا کام ہے اس کے سوائے کوئی طاقت نہیں جو زور کے ساتھ تمہیں پاک کر دے۔پاک جذبات کے پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ نے نماز رکھی ہے۔نماز کیا ہے؟ ایک دعا جو درد، سوزش اور حرقت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے تا کہ یہ بدخیالات اور برے ارادے دفع ہو جاویں اور پاک محبت اور پاک تعلق حاصل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلنا نصیب ہو۔صلوٰۃ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ سوزش اور جلن اور رقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔( بدر جلد 6 نمبر 1,2 مورخہ 10 جنوری 1907 ء صفحہ 12) اللہ تعالیٰ ایک تڑپ کے ساتھ ہمیں اپنی نمازوں میں خوبصورتی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز کے مقابلے میں ہر قسم کے دنیاوی لالچ اور شغل سے ہم بچنے والے ہوں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا نہ ہی ہم اپنی کوشش سے دنیاوی لالچوں اور شغلوں سے بچ سکتے ہیں، نہ ہی ہم اپنی کوشش سے اپنے آپ کو پاک کر سکتے ہیں، نہ ہی ہم کسی طرح خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں مگر صرف ایک ذریعہ ہے جو نماز کا ذریعہ