خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 512

512 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہیں اور مختلف آپریشنوں اور مختلف پروسیجرز (Procedures) کی جونئی نئی تحقیق ہے ، جن کے ذریعہ سے آج کل جو انسان علاج کرواتا ہے صحت یاب ہوتا ہے۔یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عقل دی ہے اس کو وہ استعمال میں لا یا اور یہ علاج پیدا ہوئے۔آج ترقی یافتہ دنیا میں بیماریوں کے علاج کی شرح بہت بہتر ہوگئی ہے۔چند دہائیاں پہلے بعض علاج ایسے ہیں جو سوچے بھی نہیں جاسکتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آج بھی انسان کو یہ بتانے کے لئے کہ شافی تم نہیں بلکہ میں ہوں، ایسے کیس جن پر بعض اوقات ڈاکٹروں کو 100 فیصد یقین ہوتا ہے کہ بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ انہیں شفاء نہیں دیتا۔پس ایک مومن کی نظر ہمیشہ کی طرح اپنی بیماریوں میں بھی بجائے ڈاکٹروں کے اپنے شافی خدا پر ہونی چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے ایک ایسے ہی بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والے کو جو اپنے آپ کو بڑا معالج سمجھتا تھا۔فرمایا کہ اصل طبیب تو اللہ تعالیٰ ہے۔ہاں تو ایک ہمدردی کرنے والا شخص ہے۔اس بیماری کا اصل طبیب وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔جو بھی چیز پیدا ہوتی ہے اس کی طرف سے ہے یا انسان کی غلطیوں کے جو منطقی نتیجے نکلتے ہیں پھر قانون قدرت کے تحت انسان کو ان کے نتیجے بھگتنے پڑتے ہیں۔اس زمانہ میں بھی اپنے آقا و مطاع کی حقیقی پیروی کرنے والے اور غلام صادق سے بھی ایک دفعہ اسی طرح کا واقعہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس شخص کو جو اپنے آپ کو بڑا ماہر طبیب سمجھتا تھا اور جس کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر جو یقین تھا اس کا خانہ خالی لگتا تھا۔آپ نے ایسے علاج کرنے والے کو بڑا نا پسند فرمایا اور اس سے علاج کروانے سے انکار کر دیا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کو دوران سرکا عارضہ تھا۔ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے۔اسے کرایہ بھیج کر کہیں دور سے بلوایا گیا۔اس نے حضور کو دیکھا اور کہا کہ دو دن میں آپ کو آرام کر دوں گا۔یہ سن کر حضرت صاحب اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے علاج میں ہرگز نہیں کرانا چاہتا۔یہ کیا خدائی کا دعوی کرتا ہے؟ اس کو واپس کرایہ کے روپے اور مزید 25 روپے بھیج دیئے کہ یہ دے کر اس کو رخصت کر دیں۔چنانچہ اسے واپس بھجوادیا گیا۔(ماخوذ اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ 145 - مطبوعہ ربوہ ) تو یہ ہے اللہ والوں کا طریقہ کہ بیماری کی صورت میں بھی کامل یقین اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے نہ کسی معالج پر ، نہ کسی دوائی پر۔پس اس زمانے میں جب کہ نئی نئی ایجادات ہو گئی ہیں۔ایسی لائف سپورٹ (Life Support) مشینیں بن گئی ہیں جن سے کافی لمبا عرصہ زندہ رکھا جا سکتا ہے، یا زندگی کو دوبارہ بحال کیا جاسکتا ہے۔جراحی کے بھی نئے نئے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں۔لوگوں کی عمریں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔ہمارے لئے آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلام صادق اور زمانے کے امام کا یہ ارشاد اور یہ اسوہ ہے۔