خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 22

22 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم اب دیکھو اس جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفت تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے۔اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعد لکھی گئی ہیں اسی کی زیادہ تر تفصیل کر دی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ ( خدا کے علم میں ) ایمان لانے والے ہیں وہ اگر چہ ہنوز ابھی مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو خدا خوب جانتا ہے کہ طریقہ حقہ اسلام قبول نہیں کریں گے۔اسلام کا طریق قبول نہیں کریں گے۔اور گو ان کو نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتب کا ملہ تقویٰ و معرفت تک نہیں پہنچیں گے۔غرض ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی منتفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت نفسانی کا نہیں“۔وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، وہی لوگ نفع حاصل کر سکتے ہیں جن کی فطرت میں کسی قسم کا نفسانی اندھیرا اور گند نہیں ہے۔اور یہ ہدایت ان تک ضرور پہنچ رہے گی۔یعنی جو لوگ متقی نہیں ہیں نہ وہ ہدایت قرآنی سے کچھ نفع اٹھاتے ہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ خواہ نخواہ ان تک ہدایت پہنچ جائے۔(براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 200-202 حاشیہ) پس اس تعلیم کو سمجھنے کیلئے ، سننے کے لئے تقویٰ ضروری ہے۔اس تعلیم کو سننے والوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بھی تھے اور ابو جہل جیسے لوگ بھی تھے لیکن حق کی تلاش والے قبول کر کے بہترین انجام کو پہنچے۔حضرت ابوبکر نے وہ مقام پایا جو رہتی دنیا تک سنہری حروف میں لکھا جانے والا ہے اور جو ابو جہل جیسے لوگ تھے وہ اپنے بدترین انجام کو پہنچے۔پس آج بھی دجالی چالیں چلنے والے جو یہ کوششیں کرنے لگے ہیں کہ اس کتاب کو بدل دیں تو وہ بھی اپنے بد انجام کو دیکھ لیں گے اور وہ اس کوشش میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن جو لوگ اس پاک کتاب کو ، پاک تعلیم کو ، پاک دل سے سنتے اور پڑھتے ہیں تو یہی تعلیم ہے جو ان کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنے والی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس ہے وہ میں پڑھتا ہوں۔وقت تھوڑا ہے۔میرا خیال تھا کہ خلاصہ بیان کر دوں گا، لیکن خلاصہ نہیں کیونکہ اس اقتباس کی وضاحت تو ہو سکتی ہے خلاصہ نہیں ہوسکتا۔اس لئے اصل حالت میں ہی سنارہا ہوں گو کہ لمبا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں۔اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعوئی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى (المائدہ:4) کہ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کیا اور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لئے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں، یعنی