خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page iii
خطبات مسرور جلد ششم پیش لفظ پیش لفظ لحمدللہ، خطبا مسرور کی چھٹی جلد پیش کی جاری ہے جو حضرت خلیفہ اسی انجام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بیان فرمودہ 2008ء کے 52 خطبات جمعہ پر مشتمل ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ خطبات بیت الفتوح لندن، حدیقۃ المہدی آلٹن، باغ احمد گھانا، بین ، نائیجریا،امریکہ، کینیڈا، ہمبرگ، برلن ، جرمنی ، پیرس فرانس، بریڈ فورڈ لندن، کالی کٹ کیرالہ انڈیا، دہلی انڈیا میں ارشاد فرمائے۔یہ تمام خطبات الفضل انٹر نیشنل لندن میں شائع شدہ ہیں۔ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وقت کے امام کو پہچاننے کی توفیق دی اور اس کا سراسر فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں خلافت کے نظام میں شامل کیا۔ہمیں ایک خلیفہ عطا کیا جو ہمارے لئے درد رکھتا ہے، ہمارے لئے اپنے دل میں پیار رکھتا ہے، اس خوش قسمتی پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔اس شکر کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ ہم خلیفہ وقت کی آواز کو سنیں، اس کی ہدایات کو سنیں ، اور ان پر عمل کریں کیونکہ اس کی آواز کو سننا باعث ثواب اور اس کی باتوں پر عمل کرنا دین و دنیا کی بھلائی اور ہمارے علم وعمل میں برکت کا موجب ہے۔اس کی آواز وقت کی آواز ہوتی ہے۔یہ لوگ خدا کے بلانے پر اور زمانے کی ضرورت کے مطابق بولتے ہیں۔خدائی تقدیروں کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے وہ رہنمائی کرتے ہیں اور الہی تائیدات ونصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے۔۔۔اسے ( الفرقان مئی جون 1967 ، صفحہ 37) اپنی صفات بخشتا ہے۔“ حضرت مصلح موعودؓ کا ایک ارشاد ان خطبات کی خیر و برکت اور اہمیت کو اور واضح کر دیتا ہے آپ نے فرمایا: ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ،سب تجویزوں، اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہواس وقت تک خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔“ (خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936 ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936ء)