خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 261

261 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 2008 یہ مسجد کی تعمیر ظاہر کرتی ہے کہ باوجود ان ملکوں میں رہنے کے جماعت کے افراد خدا تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں۔دنیا میں بسنے والے دوسرے احمدیوں کی معلومات کے لئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ، یہ بھی بتا دوں کہ اس مسجد کا نقشہ اس لحاظ سے بہت خوبصورت اور اچھا ہے کہ ایک تو مسجد کا مین ہال Main) (Hall ہے۔عورتوں اور مردوں کا جو مسقف حصہ ہے اس میں 10 ہزار 4 سو مربع فٹ ہے۔اس کے علاوہ ایک ملٹی پرپز (Multy Purpose) ہال بھی ہے 7 ہزار 200 مربع فٹ کا۔ڈائننگ ہال ہے تقریباً 18 سو مربع فٹ کا ہے۔رہائش کے حصے ہیں ، جماعت اور ذیلی تنظیموں کے دفاتر ہیں۔تو ایک اچھا بڑا کمپلیکس (Complex) ہے۔بہر حال فی الحال تو جماعتی ضروریات کے لئے کافی ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری ضرورتیں بھی بڑھا تا رہے اور اُس کے حضور مزید پیش کرنے کی اور مزید مسجد میں بنانے کی توفیق بھی ہم پاتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجد کو یا مسجدوں کو جماعت کے پھیلنے کا ذریعہ بتایا ہے۔اللہ کرے کہ یہ مسجد بھی اس مقصد کو پورا کرنے والی ہو اور پھر جیسا کہ میں نے کہا ایک سے اگلی مسجد بھی تعمیر ہوتی رہے اور جاگ لگتی چلی جائے۔مسجدوں کی تعمیر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑگئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہئے ، پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت باخلاص ہو۔محض اللہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہرگز دخل نہ ہو تو تب خدا برکت دے گا۔فرمایا ”غرضیکہ جماعت کی اپنی مسجد ہونی چاہئے جس میں اپنی جماعت کا امام ہو اور وعظ وغیرہ کرے اور جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ سب مل کر اسی مسجد میں نماز باجماعت ادا کیا کریں۔جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہیں۔پرا گندگی سے پھوٹ پیدا ہوتی ہے۔اور یہ وقت ہے کہ اس وقت اتحاد واتفاق کو بہت ترقی دینی چاہئے اور ادنی ادنی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہئے جو کہ پھوٹ کا باعث ہوتی ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 93۔جدید ایڈیشن۔مطبوعہ ربوہ ) اس زمانہ میں ، ان مغربی ممالک میں ہماری مساجد اسلام کی طرف کھینچنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔بلکہ آج جبکہ اسلام کے خلاف ایک مہم زور وشور سے شروع ہے غیر مسلموں کو متوجہ کرنے کا ذریعہ ہماری مساجد ہیں اور ہونی چاہئیں۔یہ قربانی جو آپ نے کی ہے اس کے پیچھے یقینا وہ روح ہے اور ہونی چاہئے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ