خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 202

خطبات مسرور جلد ششم 202 (21) خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 2008 فرمودہ مورخہ 23 مئی 2008ء بمطابق 23 ہجرت 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے لفظ جبار کے حوالے سے اس لفظ کی وضاحت خدا تعالیٰ کی ذات کے تعلق میں اور بندے کے تعلق میں کی تھی کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو، اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر استعمال ہو تو اس کا مطلب اصلاح کرنے والا ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ دعا بھی اسی وجہ سے سکھائی ہے جو ہر مسلمان نماز پڑھتے ہوئے دو سجدوں کے درمیان پڑھتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے:۔حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دوسجدوں کے درمیان دعا کیا کرتے تھے کہ رَبِّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِيْ وَاجْبُرْنِي وَارْزُقْنِی وَارْفَعْنِی کہ اے میرے رب مجھے بخش دے۔مجھ پر رحم فرما۔وَاجْبُرْنِی اور میرے بگڑے کام سنوار دے۔اور مجھے رزق عطافرما۔اور میرے درجات بلند فرما۔( سنن ابن ماجہ۔کتاب الصلوۃ باب ما یقول بين السجدتین حدیث نمبر 898) یعنی وَ اجْبُرْنِی کے حوالے سے میرے روحانی، جسمانی، مادی ، جتنے بھی معاملات ہیں ان کی اصلاح فرما اور میرے سب کام اس حوالے سے سنوارتا چلا جا۔یہ دعا یقینا اس لئے آنحضرت نے ہمیں سکھائی تا کہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھیک خدا تعالیٰ سے مانگیں اور اُس حالت سے بچنے کی کوشش کریں جب یہ خدا کو بھولنے والے انسان کو اس لفظ کے ان معانی کا حامل بنا دیتا ہے جس کے نتیجے میں انسان حد سے زیادہ بڑھنے والا، سختی کرنے والا ، باغی اور سرکش ہو جاتا ہے۔اور خاص طور پر نبیوں کی مخالفت کرنے والے اس زمرہ میں شمار ہوتے ہیں۔اس وقت میں اصلاح کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند الہامات اور اقتباسات پیش کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ تُوبُوا وَاَصْلِحُوْا وَإِلَى اللَّهِ تَوَجَّهُوْا “۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اس کا ترجمہ فرمایا ہے تو بہ کرو اور فسق و فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرو اور خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔( تذکرہ صفحہ 63 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ )