خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد ششم 201 خطبہ جمعہ فرموده 16 مئی 2008 انڈونیشیا میں بھی پے در پے ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو ہمارے سامنے یہ نظارے رکھتے ہیں۔پس یہ اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آگئیں لگائیں گے اور دیکھیں گے۔پس اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کریں۔انشاء اللہ تعالیٰ جلد ان ظالموں کے یہ ظلم انہی پر پڑیں گے۔اللہ تعالیٰ سب کو دعاؤں کی بھی توفیق دے اور صبر اور ثبات قدم بھی عطا فرمائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: ایک افسوسناک اطلاع ہے کہ ہمارے جامعہ احمد یہ گھانا میں زیر تعلیم ایک طالب علم ، احمد Apisai ، جو کر بیباتی (Kiribati) جزیرہ سے وہاں تعلیم حاصل کرنے گئے ہوئے تھے۔جن کی عمر 20 سال تھی۔وقف نو کے مجاہد تھے۔بڑے سعادت مند اور تعاون کرنے والے نوجوان تھے۔جب میں جلسہ سالانہ گھانا میں گیا ہوں تو اس موقع پر انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ دن رات ڈیوٹیاں بھی دیں۔جامعہ میں بھی تیاری وغیرہ کرتے رہے، کچھ دیر بیمارہ کر 4 مئی کو رات کو ان کی وفات ہوگئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ہر طرح کے علاج کی کوشش کی گئی تھی لیکن بہر حال اللہ کی مرضی تھی ، اسی پر ہم راضی ہیں۔ان کے والدین نے 1988ء میں عیسائیت سے احمدیت میں شمولیت اختیار کی تھی۔احمدیت کو قبول کیا تھا۔اور اس جزیرہ میں یہ پہلا احمدی خاندان ہے۔نہایت مخلص خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ان کی والدہ ایک سکول ٹیچر ہیں اور تبلیغ کا بہت شوق رکھتی ہیں۔والد بھی سلسلہ کادر در کھنے والے نیک انسان تھے۔وفات پاچکے ہیں۔وہ بھی خلافت رابعہ میں یہاں لندن جلسہ پر آئے تھے اس کے بعد واپس گئے اور بیمارر ہے اور تھوڑی دیر بعد ہی ان کی وفات ہوگئی۔اللہ تعالیٰ ان کے والد سے بھی مغفرت کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند کرتار ہے اور اس مجاہد بیٹے سے بھی مغفرت کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ان کے ہاں پہلے اولا د توتھی لیکن لڑ کا کوئی نہیں تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی دعا سے یہ بچہ پیدا ہوا تھا جس کو انہوں نے وقف کیا تھا۔اللہ تعالیٰ اس والدہ کو بھی صبر دے اور اپنی رضا پر راضی رکھے، ایمان میں بڑھائے۔اس خاندان کے لئے بہت زیادہ دعا کریں۔خاص طور پر ان کی والدہ کے لئے۔ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ میں اس بچے کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 23 مورخہ 6 جون تا 12 جون 2008 صفحہ 5 تا 7)