خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 79
خطبات مسرور جلد ششم 79 خطبه جمعه فرمود ه 22 فروری 2008 ہے کہ وہ لوگوں کے دکھاوے کے لئے نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔یا پھر خواہش ہوتی ہے کہ لوگ دیکھ کر کہیں کہ بڑا نمازی ہے۔یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر اس زمانے میں اس حقیقی اسلام سے آشنا ہوئے ، اس حقیقی اسلام کو سمجھا جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں دیا۔اللہ تعالیٰ نے خالص صورت میں آنحضرت پر و تعلیم اتاری۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ يُرَآءُ وْنَ (الماعون: 6-5) پس ان نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔وہ لوگ جو دکھاوا کرتے ہیں۔تین چیزیں ہیں۔نماز پڑھنے والے بھی ہیں۔ہلاکت ان نماز پڑھنے والوں پر ہو جو نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور غافل بھی رہتے ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں۔پس ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں تو پڑھتے ہیں لیکن نمازیں خدا کے لئے نہیں بلکہ معاشرے کے زیر اثر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔لوگوں کو دکھانے کے لئے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ان میں اخلاقی برائیاں بھی ہیں اس کی طرف وہ توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔نماز پڑھنے والے کی یہ نشانی ہے کہ اس کے اخلاق بھی اچھے ہوں اور وہ اپنی اخلاقی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش بھی کرے۔ان آیات میں بعد میں آنے والوں کے لئے ایک انذار بھی ہے۔صحابہ تو ایسے نہیں تھے جو ان کی نمازیں ایسی تھیں کہ جن میں غفلت تھی یا جن کے اخلاق ایسے نہیں تھے جو ایک صحیح حقیقی مومن کے ہونے چاہئیں۔آنحضرت والے کے زمانے میں اگر دیکھیں تو منافقین تھے جو دھوکہ دینے والے تھے۔جن کے بارے میں فرمایا کہ وَإِذَا قَامُوْا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوْا كُسَالَى - ( النساء: 143) یعنی جب وہ نماز کو جانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں اور ان میں اخلاقی برائیاں بھی ہیں۔یا پھر اس آخری زمانے کے مسلمانوں کی حالت کے بارے میں آنحضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِّنَ الْهُدَی یعنی اس زمانے کے لوگوں کی مساجد بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔پس یہ ہدایت سے خالی مسجدوں میں نمازیں پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جن کی نمازیں ان پر لعنت بن جاتی ہیں۔ہم خوش قسمت ہیں کہ آخرین کے اس گروہ میں شامل ہیں جس کی عظیم رسول اور مزگی اعظم نے اپنے زمانے کے ساتھ ملنے کی خبر دی تھی۔جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ وہ پہلوں سے ملے ہوئے ہیں۔پس اتنے بڑے انعام کے بعد ہماری کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنی نمازوں میں کبھی سستی نہ آنے دیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کبھی کمی نہ آنے دیں۔اپنا پہلو ہر وقت ان باتوں سے بچا کر رکھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اندار فرمایا ہے۔جب ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور احسان